قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی صورتحال مخدوش، پولیس کی 200 آسامیاں خالی، افیون اور منشیات کا زہر پھیل رہا ہے: انجینئر زمرک خان اچکزئی

قلعہ عبداللہ میں 2 نئے تھانے قائم اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، قبائلی تنازعات حل کرائے ہیں: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو


پولیس بھرتی کا طریقہ کار آسان بنایا جائے، قلعہ عبداللہ میں امن قائم ہونے سے پورے پشتون بیلٹ میں پائیدار امن آئے گا: توجہ دلا نوٹس پر بحث
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکنِ اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی کی جانب سے قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر توجہ دلا نوٹس پیش کیا گیا، جس پر حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات ایوان میں پیش کی گئیں۔
اجلاس میں وزیرِ داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 2 سالوں کے دوران ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کے قیام کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ضلع میں 2 نئے پولیس تھانے قائم کیے گئے ہیں، سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور اہم قبائلی تنازعات کو بھی خوش اسلوبی سے حل کیا گیا ہے۔
توجہ دلا نوٹس پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ ریاست اور حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے بنیادی مسائل بالخصوص امن و امان کے بحران کی طرف فوری توجہ دے اور ان کا پائیدار حل نکالے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ قلعہ عبداللہ ماضی میں افیون کی کاشت کے حوالے سے بدنام تھا، تاہم حکام کی جانب سے سنجیدہ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے اب یہ لعنت دیگر علاقوں تک بھی پھیل چکی ہے اور ضلع میں آئے روز کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہو رہا ہے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ان کے حلقے میں اس وقت بھی 3 پولیس افسران اور 200 اہلکاروں کی آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کی بھرتی کے عمل کو آسان بنایا جائے جبکہ منشیات کے خلاف کارروائیوں کو مزید سخت کیا جائے تاکہ قلعہ عبداللہ، چمن اور زیارت میں لوگ بلاخوف و خطر سفر کر سکیں۔

WhatsApp
Get Alert