روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا، کے پی میں مجبوراً ایمرجنسی لگانا پڑی: وزیر اعظم

گوجرانوالہ (قدرت روزنامہ) وزیر اعطم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا، کے پی میں مجبوراً ایمرجنسی لگانا پڑی۔

پارٹی رہنما سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے، سابق وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے ساتھ ایک سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں، ان کو صوبے کی صورتحال بتانے کی کوشش کی، ان سے کہا کہ ’دہشتگردی کے خلاف مل کر چلیں گے، صوبے کو جو وسائل چاہییں فراہم کریں گے‘۔

شہباز شریف نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی نے دن رات بیٹھ کر کوشش کی، مذاکرات میں طے ہوا تھا یہ لانگ مارچ کی کال واپس لیں گے، مسودہ فائنل ہونے کے بعد سہیل آفریدی سے مشاورت کی گئی جس کے بعد بازی پلٹ گئی، ان کو حکم یہی تھا کہ کوئی معاملہ طے نہیں کرنا بلکہ خون خرابہ کرنا ہے، ہم خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے تھے کیونکہ مجرمانہ غفلت پر آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کرتیں، ملک کے بہتر مفاد میں مجبوراً کے پی میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ کے پی سے متعلق لیے گئے فیصلے کے اچھے نتائج نکلیں گے، ایڈوائزری کونسل میں اچھے لوگ ہیں، میں بھی جلد کے پی جا کر بریفنگ لوں گا۔

ان کا کہان تھا کہ پی ٹی آئی کی ماضی کی تاریخ بھیانک ہے، ان کا پچھلے سال کا لانگ مارچ آپ کو یاد ہوگا، انہوں نے ہر لحاظ سے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، اس بار انہوں نے مکمل خون ریزی کا پلان بنایا ہوا تھا۔

WhatsApp
Get Alert