بیٹی کا قاتل مارا گیا، میرے ساتھ انصاف ہوگیا، لائبہ اعجاز کے والد کا بیان
وزیر داخلہ محسن نقوی کی لائبہ اعجاز کے گھر آمد، متاثرہ خاندان کو فراڈ میں لوٹی گئی 50 لاکھ روپے سے زائد رقم واپس کردی گئی، والد نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا، ملزم نعمان کی پولیس حراست میں ہلاکت پر قانونی سوالات بھی برقرار

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ فراڈ کے بعد جان کی بازی ہارنے والی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے والد نے مرکزی ملزم محمد نعمان کی ہلاکت کے بعد کہا ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ ہوا ہے اور انہیں انصاف ملنے کا احساس ہوا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسلام آباد پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو کبھی نہیں بھول سکتے، تاہم مشکل وقت میں ریاست اور عوام کی حمایت نے انہیں حوصلہ دیا ہے۔
نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بدھ کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں لائبہ اعجاز کے گھر جا کر اہل خانہ سے ملاقات کی۔
اس موقع پر وزیر داخلہ نے لائبہ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، فاتحہ خوانی کی اور متاثرہ خاندان کو مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
لائبہ کے والد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، لیکن اب انہیں اس بات کا عملی احساس ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کی موت کا صدمہ زندگی بھر ان کے ساتھ رہے گا، تاہم حکام کی جانب سے کی گئی کوششوں اور پاکستانی عوام کی ہمدردی نے انہیں سہارا دیا ہے۔
فراڈ میں لوٹی گئی 50 لاکھ روپے سے زائد رقم والد کو واپس
روزنامہ جنگ اور ایکسپریس نیوز کی رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے لائبہ اعجاز کے والد کو فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی 50 لاکھ روپے سے زائد رقم واپس کی۔
حکام نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کروائی کہ مقدمے سے متعلق باقی مالی معاملات اور برآمدگیوں پر بھی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ملاقات کے دوران اسلام آباد کے آئی جی پولیس، چیف کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کی ٹیموں نے مقدمے پر دن رات کام کیا اور متاثرہ خاندان سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔
ملزم نعمان پولیس حراست میں کیسے ہلاک ہوا؟
واضح رہے کہ لائبہ اعجاز کے ساتھ مبینہ فراڈ کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم محمد نعمان منگل 20 اکتوبر کو اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوگیا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق ملزم کو برآمدگی کیلئے لے جایا جا رہا تھا کہ دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے اسے چھڑوانے کیلئے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔
پولیس ترجمان کا دعویٰ ہے کہ نعمان اپنے ہی مبینہ ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہوا اور بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا، جبکہ پولیس اہلکار بلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی اقدامات کے باعث محفوظ رہے۔ پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم ملزم کی ہلاکت کے حالات سے متعلق پولیس کا مؤقف تاحال آزادانہ عدالتی تحقیقات سے ثابت نہیں ہوا۔
قانونی ماہرین اور مبصرین کی جانب سے ایسے واقعات میں شفاف تحقیقات کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ زیر حراست ملزم کی موت کن حالات میں ہوئی۔
لائبہ اعجاز کیس میں مزید 21 افراد سے فراڈ کا انکشاف
ایکسپریس نیوز کے مطابق تفتیش کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ محمد نعمان مبینہ طور پر لائبہ اعجاز کے علاوہ مزید 21 افراد کو جعلسازی کا نشانہ بنا چکا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ملزم سے وزارت دفاع میں ملازمتوں کے 21 مبینہ جعلی تقرری نامے ملے، جن کے ذریعے مختلف افراد سے رقوم وصول کی گئی تھیں۔
لائبہ اعجاز اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ تھیں۔ اہل خانہ اور پولیس کے مطابق انہیں امریکا میں اعلیٰ تعلیم اور ویزے کے حصول کا جھانسہ دے کر رقم اور زیورات حاصل کیے گئے تھے۔
بعد میں دستاویزات جعلی ہونے کا انکشاف ہوا اور لائبہ کی موت کا المناک واقعہ پیش آیا۔
لائبہ کے والد نے کہا کہ وہ بیٹی کی جدائی کا دکھ کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے، لیکن ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے لوگوں اور حکومتی اقدامات سے انہیں حوصلہ ملا ہے۔ دوسری جانب مقدمے کے مرکزی ملزم کی پولیس حراست میں موت نے یہ سوال بھی زندہ رکھا ہے کہ سنگین جرائم کے ملزمان کے خلاف کارروائی میں قانون، شفاف تحقیقات اور عدالتی عمل کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔
