’میری بیٹی نے محض 15 سال کی عمر میں قرآن مجید کا اول سے آخر تک مطالعہ کیا ‘سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا انکشاف

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے امریکا میں بڑھتے ہوئے اسلام فوبیا، مذہبی منافرت اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مسلمان کمیونٹی کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بیٹی چیلسی کلنٹن نے محض 15 سال کی عمر میں مقدس کتاب ‘قرآن مجید’ کا اول سے آخر تک مطالعہ کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالالسید کی حمایت اور امریکی سیاست میں ‘ہم بمقابلہ وہ’ کی تقسیم پر گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا ’میں اس بات سے تنگ آ چکا ہوں کہ لوگ محض مسلمان ہونے کی بنیاد پر مسلمانوں کی تذلیل اور تحقیر کرتے ہیں۔‘

بل کلنٹن نے اپنے جذباتی خطاب میں بتایا کہ جب ان کی بیٹی چیلسی 15 سال کی تھیں تو انہوں نے پورا قرآن پڑھنے کے بعد قرآن کا نسخہ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا ’ڈیڈی! آپ بھی اسے پڑھیں۔‘

سابق صدر نے قرآن پاک کی اس آیہ مبارکہ کا حوالہ دیا جس میں انسانوں کی مختلف اقوام اور قبائل میں تقسیم کا مقصد ایک دوسرے کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو جاننا، سمجھنا اور ایک دوسرے سے سیکھنا بتایا گیا ہے۔

کلنٹن نے زور دے کر کہا کہ ہر مذہب اور عقیدے میں برے عناصر موجود ہوتے ہیں کیونکہ انسان خود بالذات خامیوں کا پتلا ہے۔ انہوں نے امریکی معاشرے میں جاری مذہبی اور ثقافتی جنگوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور اس کے پیروکاروں کو نشانہ بنانے والی سوچ کو رد کیا جانا چاہیے اور تمام مذاہب کا احترام و آزادی بلا تفریق یقینی بنائی جانی چاہیے۔

سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مذہبی و ثقافتی تنوع کو محاذ آرائی یا تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے باہمی فہم و تفہیم، ہم آہنگی اور تعصبات سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بل کلنٹن کا یہ بیان مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلام فوبیا، مذہبی امتیاز اور رواداری کی بدلتی ہوئی قدروں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو نفرت انگیز تقاریر کے خاتمے اور بین المذاہب مکالمے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert