ایران کے شیڈو ٹینکرزبیڑے پر لدا خام تیل کا ذخیرہ ختم ہوچکا ہے.امریکی اخبار کا دعوی
ایشیائی پانیوں میں محفوظ کھڑے درجنوں آئل ٹینکرز میں لاکھوں بیرل خام تیل موجود تھا‘تہران اس ذخیرے سے چین کو تیل کی سپلائی بحال رکھے ہوئے تھا. رپورٹ

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)ایران کے شیڈو ٹینکرز کے بیڑے پر لدا خام تیل کا ذخیرہ اب ختم ہوچکا ہے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جنگ کے بیشتر حصے میں ایران کے پاس ایشیائی پانیوں میں محفوظ کھڑے درجنوں آئل ٹینکرز تھے جن میں لاکھوں بیرل خام تیل موجود تھا ایران یہ تیل مسلسل چین کو فروخت کر کے اربوں ڈالر حاصل کر رہا تاہم اب یہ تیرتا ہوا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے.
وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ ڈیٹا اینالیٹکس فرم ”کپلر“ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اکتوبر کے وسط تک یہ ذخائر مکمل طور پر خالی ہوگئے کیونکہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کو وہ خام تیل برآمد کرنے سے روک دیا جو وہ عام طور پر چینی ریفائنریوں کو فروخت کرتا ہے. امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس ناکہ بندی نے ایران کو کم از کم 25 ارب ڈالر مالیت کی تیل کی آمدنی سے محروم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں تباہ شدہ فیکٹریوں اور ہتھیاروں کو تبدیل کرنے کی ایرانی صلاحیت محدود ہو جائے گی یہ تیرتا ہوا ذخیرہ اس پیچیدہ نظام کا حصہ رہا ہے جو ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود اپنے اہم ترین خریدار چین کو تیل پہنچانے کے لیے برسوں میں تیار کیا تھا.
براہِ راست چینی ریفائنریوں کو تیل بھیجنے کے بجائے ایران سے منسلک ”شیڈو ٹینکرز“ خام تیل ملائیشیا اور سنگاپور کے ساحلوں کے قریب سمندروں میں لے جاتے تھے پھر وہاں سے یہ تیل دوسرے ٹینکروں میں منتقل کیا جاتا جو اسے خفیہ طور پر چینی ریفائنریوں تک پہنچاتے. تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی ادائیگیوں میں تقریباً دو ماہ لگ سکتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایران کو آنے والے ہفتوں میں پچھلی فروخت سے کچھ رقم مل سکتی ہے ”کپلر“ کے مطابق فروری میں جنگ کے آغاز پر ایران کے پاس بیرونِ ملک (زیادہ تر ملائیشیا اور سنگاپور کے ساحلوں پر) تقریباً 135 ملین بیرل تیل موجود تھا جب امریکا نے اپریل میں پہلی بار ناکہ بندی کی تو ایران کے ذخائر میں تیزی سے کمی آئی.
جون کے وسط میں امن مذاکرات کے تحت ناکہ بندی اٹھائی گئی تو ایران نے تیزی سے مزید تیل بھیجا اور ذخائر دوبارہ 90 ملین بیرل تک پہنچ گئے لیکن جولائی کے وسط میں امریکی ناکہ بندی دوبارہ لگنے کے بعد 5 اکتوبر تک یہ ذخائر ایک ملین بیرل سے بھی کم رہ گئے تھے اور اب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں.
