جیل میں سب ریکارڈ ہو رہا ہے تو عمران خان کا این آر او مانگنے کا کلپ سامنے لایا جائے، ایثار رانا کا چیلنج

لاہور (قدرت روزنامہ) سینیئر صحافی ایثار رانا اور تجزیہ کار منیب فاروق نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں موجودگی، سیاسی ڈیل اور موجودہ حکومت کی پوزیشن پر ایک سنسنی خیز بحث کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اینکرپرسن منصور علی خان کے شو میں مباحثے کے دوران سینیئر صحافی ایثار رانا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے این آر او یا کسی قسم کی ڈیل مانگنے کے تاثر کو مکمل طور پر رد کیا، انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ جیل کے اندر ہر وقت تمام حرکات و سکنات اور گفتگو ریکارڈ ہو رہی ہوتی ہے، اگر ایسا ہے تو عمران خان کا کوئی ایک کلپ یا ثبوت پیش کیا جائے جس میں وہ این آر او مانگ رہے ہوں یا حکومت و اداروں سے معافی مانگ کر چھوڑنے کا کہہ رہے ہوں۔
جیل کے اندر تو سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے عمران خان کا کوئی ایک کلپ دیکھا دیں جس میں وہ NRO مانگ رہا ہو کہہ رہا ہو چھوڑ دیں معاف کر دیں، ایثار رانا
ڈیل ہر ایک کو چاہئے ہوتی ہے عمران خان کے لئے مرضی کی ڈیل نہیں in fact انکے لئے کوئی ڈیل ہی نہیں ہے، منیب فاروق https://t.co/nQjEE8rIbz
— Ali Tanoli (@alitanoli889) October 23, 2026
اس کے جواب میں تجزیہ کار منیب فاروق نے سیاسی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عمران خان جیل کے اندر جو بھی گفتگو کرتے ہیں، وہ سب کی سب ریکارڈ کی جاتی ہے اور اس کا باقاعدہ تحریری مسودہ یعنی ٹرانسکرپٹ تیار ہوتا ہے، سیاست میں ڈیل کی ضرورت ہر ایک کو ہوتی ہے لیکن عمران خان کے معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ ان کی مرضی کی کوئی ڈیل دستیاب نہیں ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت ان کے لیے سرے سے کوئی ڈیل ہی موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران اتحاد کی اصل انشورنس پالیسی یہی ہے کہ عمران خان جیل میں رہیں، جس دن عمران خان جیل سے باہر آ گئے، اسی دن یہ پورا موجودہ سیاسی سیٹ اپ اور تمام تر معاملات ختم ہو جائیں گے، عمران خان کے ساتھ سیاسی طور پر متعدد بار دھوکے ہوئے ہیں اور انہیں آسان الفاظ میں ٹرک کی بتی دکھائی جاتی رہی ہے، جس کے تحت ان سے بہت سی چیزیں اور فیصلے منوائے بھی گئے۔
انہوں نے ایک دلچسپ اندرونی کہانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب عمران خان کی جیل میں ملاقاتیں بحال تھیں، تو انہوں نے اس وقت کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور سے تلخ لہجے میں پوچھا تھا کہ ’کیا آپ نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے؟‘ یہ تمام انکشافات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ انتہائی شدید ہے اور دونوں اطراف کی حکمتِ عملی ایک دوسرے کے وجود سے جڑی ہوئی ہے۔
