ضلع آواران میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے تعاون سے سرکاری عمارتوں کی تعمیر کا 40 فیصد کام مکمل

10 لاکھ ڈالر کی گرانٹ سے سرکاری کمپلیکس اور رہائشی مکانات کی تعمیر، انتظامی بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا


پسماندہ اضلاع میں سہولیات کی بہتری اور افسران کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری
اسلام آباد(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے ضلع آواران میں سعودی فنڈ برائے ترقی ایس ایف ڈی کی 10 لاکھ ڈالر کی مالی امداد سے سرکاری عمارتوں کی تعمیر کا تقریبا 40 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق، بلوچستان کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کا منصوبہ جاتی انتظامی یونٹ اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد صوبے کے پسماندہ اضلاع میں سے ایک آواران میں انتظامی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور سرکاری افسران کے لیے کام کرنے اور رہائش کی سہولیات بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے میں تعمیر کے چار بڑے کام شامل ہیں جن میں ایک سرکاری کمپلیکس، عملے کے لیے 8 رہائشی مکانات، افسران کے لیے 2 رہائشی مکانات اور 2 آرام گاہیں شامل ہیں۔سعودی فنڈ کی جانب سے بولیوں کی جانچ پڑتال کے نتائج اور معاہدوں کے مسودوں کی منظوری کے بعد ان منصوبوں پر کام کے لیے دو ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدے طے پا چکے ہیں۔مزید برآں، معاہدوں کی شرائط کے مطابق ٹھیکیداروں کو ابتدائی اخراجات کے لیے 10 فیصد رقم بھی ادا کر دی گئی ہے جس سے تعمیراتی کام شروع کرنے اور جاری رکھنے میں مدد ملی ہے۔
ایک اور پیش رفت میں، منصوبے پر عمل درآمد کرنے والے حکام اور سعودی فنڈ نے باقی ماندہ امدادی رقم کو اضافی ضروریات، خصوصا سرکاری عمارتوں کے لیے فرنیچر کی خریداری پر خرچ کرنے کے امکان پر غور کیا ہے۔دستاویز کے مطابق، منصوبے پر مشاورتی خدمات کی لاگت تقریبا 8 لاکھ 70 ہزار ڈالر ہے۔ سعودی فنڈ کے ساتھ منصوبے کی مجموعی لاگت کو اسی رقم تک محدود رکھنے کے امکان پر بھی بات ہوئی۔تاہم، منصوبہ جاتی انتظامی یونٹ کی جانب سے عمارتوں میں فرنیچر کی فراہمی کے لیے مناسب رقم برقرار رکھنے کی درخواست کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ باقی ماندہ فنڈز کے استعمال پر تعمیراتی کام کی بروقت تکمیل اور مجموعی پیش رفت کی بنیاد پر غور کیا جائے گا۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ امدادی رقم کے استعمال اور منصوبے کے اختتام کی توسیع شدہ تاریخ دسمبر 2027 مقرر کی گئی ہے، جس سے تعمیراتی سرگرمیاں بروقت مکمل کرنے اور باقی مالی وسائل کے استعمال پر غور کرنے کے لیے اضافی وقت میسر آئے گا۔سرکاری کمپلیکس اور اس سے منسلک رہائشی عمارتوں کی تعمیر سے انتظامی امور کی کارکردگی بہتر بنانے اور سرکاری محکموں کی ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

WhatsApp
Get Alert