مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کی دھمکیوں سے کارکنوں کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، اسلم غوری
اگر مولانا صاحب پر ہاتھ ڈالا گیا تو ان کے عقیدت مندوں کی تعداد سیاست دانوں سے کہیں زیادہ ہے، مولانا کا دفاع کرنے کے لیے 45 لاکھ کارکن موجود ہیں، ترجمان جے یو آئی کی مخالفین کو وارننگ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان اسلم غوری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں تین سال جبکہ پرویز مشرف کے دور میں چھ ماہ جیل میں گزارے، اس لیے گرفتاریوں اور دھمکیوں سے انہیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے 45 لاکھ رجسٹرڈ کارکن ہیں، جن کے شناختی کارڈز کی نقول الیکشن کمیشن میں جمع ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسلم غوری نے کہا کہ سیاست دان جیلوں میں آتے جاتے رہتے ہیں، تاہم مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کی دھمکیاں دینے والوں کو زمینی حقائق سمجھنے چاہییں۔ جے یو آئی کے کارکن اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں کسی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔
ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ مخالفین جس انداز میں بیانات دے رہے ہیں اور مسلسل غلطیاں کر رہے ہیں، انہیں اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان گرفتار ہوئے تو کیا ہوگا؟ اسلم غوری کا حکومت کے نام اہم پیغام
👈اگر مولانا صاحب پر ہاتھ ڈالا گیا تو ان کے عقیدت مندوں کی تعداد سیاست دانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ مولانا کا دفاع کرنے کے لیے 45 لاکھ کارکن موجود ہیں۔
۔
@AslamGhauriJUI
@juipakofficial
۔
#MaulanaFazlurRehman #JUIF #PakistanNews #PoliticalUpdate #JUIFNews #LatestNews— Nadia Mirza (@nadia_a_mirza) October 24, 2026
انہوں نے زور دیا کہ مولانا فضل الرحمان کے کارکنوں کی بڑی تعداد کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ اسلم غوری کا کہنا تھا کہ اگر انہیں ذاتی طور پر دھمکی دی جائے گی تو وہ اس کا جواب ضرور دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کرنے کا خوف دلایا جا رہا ہے تو دوسری جانب ان کے لاکھوں کارکن بھی موجود ہیں، جو اپنے قائد کے دفاع کے لیے کھڑے ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے مختلف سیاسی ادوار میں مشکلات اور قید کا سامنا کیا ہے، اس لیے انہیں گرفتاری کی دھمکیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ اسلم غوری نے مخالفین کو خبردار کیا کہ وہ بیانات دیتے وقت جے یو آئی کے کارکنوں کی تعداد اور اپنے قائد سے ان کی وابستگی کو مدنظر رکھیں۔ ان کے بیان میں مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری سے متعلق خدشات اور کارکنوں کی حمایت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تاہم اسلم غوری کے بیان پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ 45 لاکھ رجسٹرڈ کارکنوں سے متعلق دعوے کی آزادانہ تصدیق بھی دستیاب معلومات سے نہیں ہوسکی۔
