ہم نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے، مولانا فضل الرحمان
ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا، خیبرپختونخواہ میں معدنیات کے معاملے پر دہشتگردی کے الزام کے پیچھے چھپا جا رہا ہے، ملک کو خون خرابے کی طرف نہیں جانا چاہیئے؛ قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے نفاذ اور ایمرجنسی پر سوالات اٹھائے اور حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ملک کو خون خرابے کی طرف نہیں لے جانا چاہیئے، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کیلئے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کیلئے تیار نہیں۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی اور خراب حالات کی بنیاد پر خیبرپختونخواہ کی منتخب حکومت کو ہٹا کر وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، تو پھر بلوچستان میں بھی حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں، لہذا اگر یہی اصول ہے تو وہاں بھی گورنر راج لگایا جانا چاہیئے، خیبرپختونخواہ میں دہشت گردی کے الزام کے پیچھے اصل محرک دراصل وہاں موجود معدنیات کے ذخائر پر قبضے کی کوششیں ہیں، اب تو معدنیات کی یہ باتیں خود گورنر کی جانب سے بھی کی جا رہی ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے پس منظر بتاتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ میں نے ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے حکومت سے بات چیت کی تھی جس کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کا کہا تھا، اپوزیشن نے اس پر مثبت جواب دیا اور ان کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کا علاج کرانا شامل تھا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس
مولانا فضل الرحمان
تہران میں مزاکرات ہورہے ہیں وزیر اعظم اور وزیر دفاع یہاں پر ہیں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے
لڑنے کے لیے ہمارے ہاتھوں میں بھی اب خارش ہو رہی
اس وقت ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے کوئی آئین نہیں ہے
آئیں مل کر بیٹھیں حکومت اور اپوزیشن نیا معاہدہ کریں
ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں
یہ ملک صرف فوج کا نہیں ہم سب کا ہے— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) October 28, 2026
سربراہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ ابتدائی طور پر وزیراعظم کی جانب سے اس پر مثبت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا، لیکن بعد میں صبح ساڑھے دس بجے اسحاق ڈار نے مجھے آگاہ کیا کہ حکومت نے ان مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے، سیاست اور جمہوریت کا بنیادی اصول باہمی مذاکرات اور افہام و تفہیم ہے، لیکن بدقسمتی سے ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا اور اختلافِ رائے کرنے پر ہمارے خلاف رویہ اپنایا گیا۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہی گئی بات کو دہرایا کہ ریاست کو ماں جیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے، جب تک مجھے مکمل اطمینان نہ ہو تو میں تذبذب کی حالت میں کوئی مؤقف اختیار نہیں کرتا، اور جمہوریت کی بقا کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں، اگر ہم اپنے ساتھیوں کو احترام نہیں دیں گے تو عوام سے کیا توقع رکھیں گے، میں 5 برس پہلے کے حالات سے موازنہ کرتا ہوں تو سب کچھ خواب کی طرح لگتا ہے۔
