ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی ملک خالد بانٹھ نے اپنی ہی حکومت کے گُڈ گورننس کے دعوؤں کی نفی کردی
بہاولپور ہسپتال میں نہ بیڈ ہیں، نہ ادویات ہیں، نہ میڈیکل پروفیسر ہیں، مریض کیلئے انتطامیہ سے سفارش کرنا پڑتی ہے، انتظامیہ بات نہیں سنتی، مریض مر جاتا ہے؛ پنجاب اسمبلی میں اظہار خیال

لاہور (قدرت روزنامہ)مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ملک خالد بانٹھ نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بہاولپور کے ہسپتالوں میں صحت کے ابتر انتظامات، علاج معالجے کی سہولیات کے فقدان اور انتظامیہ کی مبینہ ہٹ دھرمی پر شدید تنقید کی ہے، انہوں نے ایوان میں کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو نہ تو بستر ملتے ہیں اور نہ ہی کوئی پروفیسر یا ڈاکٹر بروقت دستیاب ہوتا ہے۔
ایوان میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ایم پی اے ملک خالد بانٹھ کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو بنیادی ادویات تک فراہم نہیں کی جا رہی ہیں، دل کے مریضوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دل کے مریض کا بروقت آپریشن، بائی پاس یا سٹینڈ نہ ڈلوایا جائے تو اس کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے، لیکن متعلقہ ہسپتالوں میں ایسے سنگین امراض کے لیے کوئی مناسب انتظامات موجود نہیں ہیں، اسی طرح گردوں کے امراض میں مبتلا مریض بھی دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
بہاولپور اسپتال میں نہ بیڈ ہیں، نہ ادویات ہیں، نہ پروفیسر ہیں، مریض کیلئے انتطامیہ سے سفارش کرنا پڑتی ہے، انتظامیہ بات نہیں سنتی، مریض مر جاتا ہے۔ MPA نواز لیگ ملک خالد بانٹھ ’گُڈ گورننس‘ کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے https://t.co/XVEG0V10ap
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) October 28, 2026
انہوں نے شکوہ کیا کہ ان کے حلقے سے تعلق رکھنے والا جو بھی غریب مریض علاج کے لیے آتا ہے، اس کی دیکھ بھال کے لیے انہیں مجبوراً پرنسپل صاحبہ اور قائد اعظم میڈیکل کالج کی انتظامیہ سے ذاتی طور پر رابطہ کرنا پڑتا ہے تاکہ مریض کو بروقت طبی امداد مل سکے، انہوں نے ایوان میں موجود بہاولپور کے دیگر ارکانِ اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہوں گے۔
ملک خالد بانٹھ نے انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ہسپتال کی پرنسپل صاحبہ نہ تو کسی عوامی نمائندے کا فون سنتی ہیں اور نہ ہی کسی کی بات سننے کو تیار ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں غریب اور بے بس مریض بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، حکومت اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے اور ہسپتالوں میں علاج معالجے کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی مبینہ غفلت کا محاسبہ کرے۔
