معاہدہ ایران میں ، وزیر دفاع یہاں بیٹھا ہے ، کیا وہاں بھی وزارت داخلہ کی ڈیوٹی ہے، مولانا فضل الرحمان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ” دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے میٹنگ ہو رہی ہے لیکن وزیر دفاع اور وزیر خارجہ یہاں پاکستان میں بیٹھے ہوئے ہیں، کیا وہاں بھی وزارت داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے”۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر طے شدہ مفاہمت سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں احتجاج ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا تھا تاہم بعد میں حکومت نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ان سے رابطہ کیا اور سیاسی تعطل ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی، اس کے بعد انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر سیاسی رہنماؤں سے تفصیلی بات چیت کی تاکہ تصادم اور خون خرابے سے بچا جا سکے۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے کہا تھا جبکہ تحریک انصاف اپنے بانی عمران خان تک رسائی اور ان کے طبی علاج کی سہولت کا مطالبہ کر رہی تھی، مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں فریقین کو کسی قابل قبول مفاہمت پر لانے کی کوشش کی لیکن بعدازاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انہیں بتایا کہ کابینہ مجوزہ طریقہ کار سے اتفاق نہیں کر رہی۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی تو پھر اچانک غیر معمولی اقدامات کیوں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور جمہوری طریقہ کار میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
آئین کے غلط استعمال کا الزام
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محض آئینی اختیارات کی موجودگی کسی بھی اقدام کو جمہوری اصولوں کے مطابق ثابت نہیں کرتی۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اختیارات کو آئین کی مجموعی روح اور آرٹیکل 2 اے میں شامل قراردادِ مقاصد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اعتراضات ہیں تو اسے ہٹانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کے بجائے عوامی مینڈیٹ اور جمہوری عمل کا احترام کیا جانا چاہیے، انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آئینی دفعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
بلوچستان کی صورت حال پر بھی سوالات
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں امن و امان کی خراب صورت حال غیر معمولی اقدامات کی بنیاد بن سکتی ہے تو بلوچستان میں بھی بدامنی، اغوا اور دیگر سکیورٹی مسائل کا جائزہ اسی معیار پر لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرکاری افسران اور دیگر اہم شخصیات کے اغوا کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو بھی بعض علاقوں میں نقل و حرکت کے مسائل کا سامنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے دور سے جاری انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے پالیسیوں کی ناکامیوں پر غور ضروری ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور صوبائی حکومت کے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں مبینہ عدم تعاون کے باعث مداخلت ضروری تھی، پی ٹی آئی نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوامی مینڈیٹ کے منافی قرار دیا ہے۔
’ہماری جماعت نے بھی قربانیاں دی ہیں‘
مولانا فضل الرحمان نے اپنی جماعت پر دہشت گردی کے معاملے میں نرم مؤقف رکھنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی (ف) نے کئی دہائیوں سے عسکریت پسندی کے خلاف جدوجہد کی ہے اور اس دوران اس کے کارکنوں اور حامیوں نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے سیکڑوں کارکن اور حامی مختلف حملوں میں جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک اجتماع پر حملے میں ان کے بقول 90 ساتھی مارے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ان قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے حکومت پر سیاسی اور مذہبی قوتوں کو تقسیم کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ قومی مسائل کے حل کے لیے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔
نئے میثاقِ جمہوریت کی دعوت
مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر بیٹھ کر نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو غیر آئینی اقدامات، سیاسی محاذ آرائی اور تشدد سے بچانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کو عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں متحد کرنے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کو طاقت کے ذریعے دبانے سے مزاحمت اور کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، تاہم حکومت اور اپوزیشن کو بھی مذاکرات کی طرف واپس آنا چاہیے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا، ”یہ ملک کسی فوجی یا جرنیل کا نہیں، ہم سب کا ہے۔“ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل طاقت کے بجائے آئین، عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اصولوں کے تحت طے ہونا چاہیے۔
وزرائے دفاع اور خارجہ سے متعلق سوالات
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے تہران میں مذاکرات اور دفاعی معاہدے سے متعلق صورت حال پر سوالات اٹھائے۔
مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے میٹنگ ہو رہی ہے لیکن وزیر دفاع اور وزیر خارجہ یہاں پاکستان میں بیٹھے ہوئے ہیں، کیا وہاں بھی وزارت داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ اہم معاملات پر فیصلہ سازی اور مذاکرات کے دوران متعلقہ حکام کی موجودگی اور قومی وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
خواجہ آصف کی طرف دیکھ کر مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع کا جملہ دہرایا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، ان کے طنزیہ جملے پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے۔ اس موقع پر خواجہ آصف بھی مسکرا دیے۔

اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر سنیں گے، تاہم غیر پارلیمانی الفاظ کو کارروائی سے حذف کردیا جائے گا، اسپیکر نے ان کی تقریر کا ایک جملہ اجلاس کی کارروائی سے حذف بھی کردیا۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ قومی سلامتی، جمہوریت اور آئینی نظام کے تحفظ کے لیے وسیع تر سیاسی مفاہمت پیدا کریں۔

WhatsApp
Get Alert