پشاور میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، کارروائیاں بلا امتیاز ہورہی ہیں، ثمر ہارون بلور

پشاور(قدرت روزنامہ)پشاور میں گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسنے، مریضوں کے اسپتال پہنچنے میں تاخیر اور طلبہ کے امتحانی مراکز تک بروقت نہ پہنچ پانے جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کے مطابق سرکاری اراضی اور گرین بیلٹس پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے بعد سڑکوں، بازاروں اور چوراہوں کی ازسرنو بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کی جاسکے۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے واضح کیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کسی سیاسی دباؤ، انتقامی سوچ یا پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلاامتیاز کی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں ٹریفک جام اب محض روزمرہ کی پریشانی نہیں رہا بلکہ ایک سنگین مسئلہ اختیار کرچکا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے بلکہ ان کی زندگیوں اور ضروری امور کی انجام دہی پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک جام کے باعث مریض بروقت اسپتال نہیں پہنچ پاتے، جبکہ طلبہ کو بھی امتحانی مراکز تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق تجاوزات کے خلاف آپریشن کا مقصد محض غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ نہیں بلکہ شہریوں کے لیے سڑکوں کو کشادہ اور آمدورفت کے قابل بنانا اور شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا ہے۔

ثمر ہارون بلور نے کہاکہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد سڑکوں، بازاروں اور چوراہوں کی بحالی اور تعمیر نو کا کام کیا جائے گا، جبکہ شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع بھی متعارف کرائے جائیں گے۔

مشیر اطلاعات نے بتایا کہ شہریوں کو نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی سے متعلق درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے سیوریج اور صاف پانی کی پائپ لائنوں کو الگ کیا جائے گا، جس سے شہری انفراسٹرکچر کی بہتری میں مدد ملے گی۔

حکومت کے مطابق گرینڈ آپریشن کا مقصد پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی روانی میں بہتری لانا، بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا اور شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔

تاہم اس آپریشن کی کامیابی کا اصل اندازہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد ہی ہوگا کہ پشاور کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کس حد تک بہتر ہوتی ہے اور شہریوں کو عملی طور پر کتنی سہولت میسر آتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert