روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتی، چوری اور چھینا جھپٹی کے واقعات پیش آ رہے ہیں،حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاجروں، مزدوروں اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں ،نصراللہ خان زیرے

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ سے مربوط ہزارگنجی میانز غونڈئی علاقائی کانفرنس کا بند اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اللہ نورخان چیئرمین، صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریزندا محمد سنگر، عبدالرزاق بڑیچ، علی محمد ترین، سید اکبر کاکڑ اور رحمت اللہ صابر، ضلعی معاون سیکریٹریز امین اللہ کاکڑ، اکبر کلیوال، محمد رسول ترین اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے شرکت کی۔کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ سلام بڑیچ نے حاصل کی۔ علاقائی سیکریٹری عبیداللہ بڑیچ نے گزشتہ تین سال کی تنظیمی و سیاسی کارکردگی پر مشتمل رپورٹ پیش کی، جس کا کانفرنس میں شریک سینکڑوں مندوبین نے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد منظوری دی۔ بعد ازاں نئی ایگزیکٹو کمیٹی کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔انتخابات کے نتیجے میں حاجی عبیداللہ خان بڑیچ علاقائی سیکریٹری، منظور احمد تارن سینئر معاون سیکریٹری جبکہ عجب خان بڑیچ، ملک عالم گل ناخیل ،شمس الدین خان، ارباب عمران کاسی، ہدایت اللہ، علاؤالدین کاکڑ، حاجی ظہور احمد، جمعہ خان وفا اور اللہ داد خان معاونین منتخب ہوئے۔ نو منتخب عہدیداروں سے پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی نے حلف لیا۔کانفرنس کے کھلے اجلاس سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، مرکزی سیکریٹری اللہ نورخان چیئرمین، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز علی محمد ترین اور سیداکبر کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر ہزارگنجی میانز غونڈئی کے سابقہ ایگزیکٹو اور کمیٹی کے اراکین کو دلی مبارکباد پیش کی، جبکہ نو منتخب ایگزیکٹو کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔مقررین نے کہا کہ ہزارگنجی میانز غونڈئی پشتون عوام اور صوبے کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے، جہاں ٹرک اڈہ، بس اڈہ، سبزی منڈی، فروٹ منڈی اور دیگر کاروباری مراکز ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس اہم تجارتی مرکز کے تاجر اور کاروباری طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ شاہراہوں پر بدامنی کے باعث مال بردار ٹرکوں، ٹرالروں اور باؤزروں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہے، جس کی وجہ سے پھلوں، سبزیوں اور دیگر تجارتی سامان کو بروقت منڈیوں تک پہنچانے اور وہاں سے ملک کے دوسرے شہروں میں منتقل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہزارگنجی میں روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتی، چوری اور چھینا جھپٹی کے واقعات پیش آ رہے ہیں، گوداموں کے تالے توڑے جا رہے ہیں اور شہریوں و تاجروں کی املاک محفوظ نہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری کے باوجود انہیں دوبارہ چھوڑ دیاجاتا ہے۔ پولیس کی غیر مؤثر کارکردگی نے عوام کے اندر عدم تحفظ اور بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاجروں، مزدوروں اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔مقررین نے کہا کہ ہزارگنجی میانز غونڈئی اور اس کے گرد و نواح کے علاقے کلی ناخیل آباد، کلی بڑیچ آباد، بڑیچ ٹاؤن، کاسی آباد،رئیسانی کلی، زہری ٹاؤن، کاکڑ ٹاؤن، اخترآباد اور دیگر آبادیوں کے عوام گیس جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ روزانہ اٹھارہ گھنٹے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ معاشی بدحالی اور ناامیدی کے باعث شدید پریشانی میں مبتلاہے، جو حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کے لیے لمح? فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پشتون عوام کو بدامنی، معاشی محرومی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ علاقے میں بدامنی اور عدم تحفظ کی صورت حال کے پیچھے معدنی وسائل اور زمینوں پر قبضے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ بدامنی اور خوف و ہراس کے ماحول کے ذریعے مقامی آبادی کو اپنے علاقوں سے بے دخل کرنے اور ان کے وسائل پر قبضے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خدشات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، عوام کو اعتماد میں لیں اور ان کے جان و مال، زمینوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی ضمانت دیں۔مقررین نے واضح کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشتون عوام کے قومی، سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارٹی عوام کو درپیش مسائل کے حل، امن و امان کے قیام، روزگار کی فراہمی، بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی وسائل پر مقامی لوگوں کے حق کے لیے ہر جمہوری و سیاسی فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
