مولانا صاحب! عوام اور ریاست کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں، عابد شیر علی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ مولانا صاحب! عوام اور ریاست کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں، ریاست کوئی الگ مخلوق نہیں، اختلافِ رائے کو ریاست سے نفرت میں تبدیل نہ کریں، حکومتوں پر تنقید کیجیے مگر قومی اداروں کی اہمیت اور قربانیوں کو یکسر مسترد کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ مولانا صاحب! ریاست کو لڑائی اور تقسیم سے تعبیر کرنا تاریخ، آئین اور قومی حقیقتوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
آپ کہتے ہیں کہ ریاست نے ہمیں کیا دیا، سوائے لڑائی اور تقسیم کے؟ تو عرض ہے کہ ریاست نے ہمیں ایک آزاد وطن، آئین، شناخت، شہری حقوق، عدالتی نظام، تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا جمہوری حق دیا ہے۔
ان تمام شعبوں میں مسائل ضرور ہیں، لیکن مسائل کی موجودگی ریاست کی اہمیت کو ختم نہیں کر دیتی۔
آپ کہتے ہیں کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی ریاست نے نہیں بلکہ عوام نے دی ہے۔
بالکل درست! عوام ہی نمائندے منتخب کرتے ہیں، لیکن یہ انتخاب جس آئینی اور جمہوری نظام کے تحت ہوتا ہے، وہ ریاست ہی فراہم کرتی ہے۔ عوام مینڈیٹ دیتے ہیں، آئین اس مینڈیٹ کو قانونی حیثیت دیتا ہے اور ریاست اس جمہوری نظام کے تسلسل کی ضمانت بنتی ہے۔
مولانا صاحب! عوام اور ریاست کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں۔ ریاست کوئی الگ مخلوق نہیں؛ یہ عوام، آئین، اداروں اور قومی خودمختاری کے مجموعے کا نام ہے۔
حکومتوں پر تنقید کیجیے، پالیسیوں پر سوال اٹھائیے اور کوتاہیوں کی نشاندہی کیجیے، یہ آپ کا جمہوری حق ہے۔ لیکن ریاست کے وجود، اس کی قربانیوں اور قومی اداروں کی اہمیت کو یکسر مسترد کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟
ریاست ماں ہے تو اس کے حقوق کے ساتھ اس کی ذمہ داریوں پر سوال بھی ضرور اٹھائیں، مگر اختلافِ رائے کو ریاست سے نفرت اور ریاستی ذمہ داریوں کو ریاست کی نفی میں تبدیل نہ کریں۔
ہمیں ایک مضبوط، آئینی، جمہوری اور عوام دوست پاکستان چاہیے؛ ایسا پاکستان جہاں عوام کے حقوق بھی محفوظ ہوں، پارلیمان بھی بااختیار ہو اور ریاست بھی مضبوط ہو۔ کیونکہ ریاست کمزور ہوگی تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو ہوگا، کسی سیاست دان کو نہیں۔
یاد رکھیے: عوام کی بالادستی اور ریاست کی مضبوطی ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک مستحکم جمہوریت کے دو بنیادی ستون ہیں۔

WhatsApp
Get Alert