پرانے ملازمین قومی ایئرلائن کا سرمایہ ہیں، ادارہ انہیں دھتکار کر نہ رکھے: عدالت

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وفاقی آئینی عدالت نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے قومی ایئرلائن انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا جامع جواب عدالت میں پیش کرے۔
کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں قائم وفاقی آئینی عدالت کے 2 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے قومی ایئرلائن کی جانب سے ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر اہم ریمارکس دیے، انہوں نے پی آئی اے کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اپنے پرانے ملازمین کی خدمات کا پاس رکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ملازمین نے اپنے گولڈن وقت میں قومی ایئرلائن کو اپنی خدمات پیش کی ہیں، اس لیے ادارہ اپنے سابق ملازمین کو یوں دھتکار کر نہ رکھے۔
فاضل جج نے واضح کیا کہ اس معاملے کو تکنیکی نکات کے بجائے صرف اور صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔
حکام اور وکیل سے مکالمے کے دوران عدالت نے میڈیکل سہولت کے ناجائز استعمال کی جانب بھی اشارہ کیا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں طبی سہولیات کے بے جا اور غلط استعمال نے اداروں کو شدید نقصان پہنچایا اور تباہ کیا، انہوں نے ایک تلخ مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں تو میڈیکل کے نام پر پرفیومز تک خریدے جاتے رہے ہیں۔
انہوں نے پی آئی اے کے وکیل سے کہا کہ جو لوگ فراڈ میں ملوث ہیں یا سہولت کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف بے شک سخت ترین کارروائی کی جائے، لیکن اس کی آڑ میں ان جائز ملازمین کا حق نہ مارا جائے جنہوں نے پوری زندگی ادارے کی خدمت کی ہے۔
دورانِ سماعت پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انتظامیہ نے طبی سہولیات کے نظام کو اب پہلے سے زیادہ منظم اور شفاف بنا دیا ہے۔
وکیل نے مزید بتایا کہ پہلے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ڈھائی لاکھ روپے کی طبی سہولت میسر تھی، جسے اب بڑھا کر 5 لاکھ روپے سالانہ کر دیا گیا ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی آئی اے انتظامیہ کو ریٹائرڈ ملازمین کے میڈیکل الاؤنس پر اپنا باضابطہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
