وزیراعظم شہباز شریف کی عام شہریوں کو آسان اقساط پر موبائل فون فراہم کرنے کے لیے پالیسی تیار کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم شہباز شریف نے عام شہریوں اور صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے آسان اقساط پر موبائل فون فراہم کرنے کی پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ہوا، جس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسز، درآمدی پالیسی اور ملک میں موبائل فونز کی مقامی تیاری سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے شرکت کی اور کمیٹی کو متعلقہ امور پر بریفنگ دی۔
بریفنگ کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والے 93 فیصد موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے بتایا کہ ملک میں تیار ہونے والے موبائل فونز پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی سطح پر موبائل فونز کی تیاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اجلاس میں 5G اسمارٹ فونز کی درآمد کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ 5G موبائل فونز کی درآمد میں کوئی مسئلہ نہیں اور ایف بی آر کے ٹیکسز بھی 5G ٹیکنالوجی کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز کی تعداد بھی زیادہ نہیں ہے۔
پرانے موبائل فونز پر ٹیکسوں میں ممکنہ کمی کے حوالے سے شزہ فاطمہ نے بتایا کہ مختلف مصنوعات اور موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح کا تعین کرنے کا اختیار ٹیکس پالیسی آفس کے پاس ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس معاملے پر تفصیلی وضاحت کے لیے ٹیکس پالیسی آفس کے نمائندوں کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں مدعو کیا جائے۔
ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موبائل فون کے مخصوص ماڈل اور اس کی اسٹوریج گنجائش کو ٹیکس کی شرح کے تعین میں اہم حیثیت حاصل ہے۔ تاہم حکام کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا موجودہ نظام موبائل فون کے مخصوص ماڈل کی شناخت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جس کے باعث مختلف ڈیوائسز کی درجہ بندی اور ان پر ٹیکس کے تعین سے متعلق مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
آسان اقساط پر موبائل فون فراہم کرنے کی مجوزہ پالیسی سے صارفین کو مکمل قیمت ایک ساتھ ادا کیے بغیر موبائل فون خریدنے کی سہولت مل سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
حکومت کی جانب سے اسکیم کے لیے اہلیت کے معیار، اقساط کی مدت، پیشگی ادائیگی، فنانسنگ کے طریقہ کار اور اجرا کی تاریخ کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔
واضح رہے کہ موبائل فونز کی آسان اقساط سے متعلق پالیسی فی الحال تیاری اور تجویز کے مرحلے میں ہے۔ حکومت نے ابھی تک اس کے حتمی قواعد و ضوابط، اہل موبائل فون ماڈلز یا باضابطہ آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ صارفین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ سرکاری اعلان یا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک کسی بھی ادائیگی یا اسکیم سے متعلق غیر مصدقہ دعوے پر اعتماد نہ کریں۔
