4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم پی جی ڈاکٹرز کے زخموں پر نمک پاشی، ناکارہ ایپ کے نام پر کٹوتی کے خلاف وائی ڈی اے کا 7 روزہ الٹی میٹم

محکمہ صحت نے وزیراعلیٰ کے وعدے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے، تنخواہیں بحال نہ ہوئیں تو ہسپتالوں میں مکمل بائیکاٹ ہوگا: ترجمان


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں کا ہیلتھ کیئر سسٹم رات دن پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز (PGRs) کے مرحونِ منت ہے لیکن افسوس ناک المیہ یہ ہے کہ پچھلے چار مہینوں سے ان ٹرینی ڈاکٹرز کو تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے پی جیز کی پے ریگولرائزیشن (Pay Regularization) کا جو وعدہ کیا تھا، محکمہ صحت نے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اور اب تک پے ریگولرائز نہیں ہو سکی۔ دوسری طرف، چار ماہ ڈاکٹرز کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے پی جی ایم آئی (PGMI) نے تنخواہوں میں کٹوتی (Deductions) کا ظالمانہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے تین چار ماہ کے دوران ہم بارہا پی جی ایم آئی اور محکمہ صحت کو تحریری درخواستیں اور شواہد جمع کرا چکے ہیں کہ ان کی موبائل اٹینڈنس ایپ تکنیکی طور پر ناکام ہے۔ اس بات کا باضابطہ اعتراف خود ایپ بنانے والی سافٹ ویئر کمپنی، پی جی ایم آئی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام بھی کر چکے ہیں کہ ایپ کے اندر شدید فالٹس (Faults) موجود ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اٹینڈنس مارک نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ جب انتظامیہ اور ڈویلپرز خود تسلیم کر رہے ہیں کہ غلطی ایپ کے سسٹم میں ہے، تو پھر اس ناکام ایپ کی سزا پی جیز کو کیوں دی جا رہی ہے؟ ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟ یہ صریحاً دادا گیری، بلیک میلنگ اور اپنے ہی ناکام سسٹم کا ملبہ ڈاکٹرز پر ڈالنے کی مذموم کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے اگر اگلے ایک ہفتے (7 دن) کے اندر اندر پی جیز کی پچھلی چار ماہ کی تنخواہوں کا مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا، پے ریگولرائزیشن پر پیش رفت نہ ہوئی اور کٹوتی کا یہ ظالمانہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا، تو ہم شدید ترین اور سخت سے سخت ری ایکشن کی طرف جائیں گے۔اس کے بعد ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے کسی بھی بحران، احتجاج یا بائیکاٹ کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری محکمہ صحت کے ہٹ دھرم حکام پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert