آدھا بلوچستان نوگو ایریا بن چکا ہے غیر سیاسی اور غیر مقامی افراد مسلط کیے گئے ‘ کرپشن اور مفلوج نظام نے عوام میں مایوسی بڑھا دی، عبدالخالق ہزارہ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے کہا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں بلوچستان میں مبینہ طور پر بندربانٹ کی گئی اور پراشوٹرز کو لاکر منتخب کرایا گیا، جبکہ کوئٹہ شہر کی نمائندگی ایسے افراد کے سپرد کی گئی جن کا متعلقہ علاقوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جب تک عوام کے حقیقی نمائندے منتخب نہیں ہوں گے، صوبے میں مایوسی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ علمدار روڈ، مری آباد اور ہزارہ ٹان سے منتخب نمائندوں کا اپنے حلقوں سے تعلق نہیں، جس کے باعث عوامی مسائل اور حقیقی نمائندگی کا فقدان ہے۔ ان کے بقول آج بلوچستان کا تقریبا نصف حصہ نوگو ایریا بن چکا ہے اور سیاست میں سماجی تہذیب و روایات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ بھی ناانصافی کی گئی۔عبدالخالق ہزارہ نے اپنی سابقہ سیاسی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں 900 سے زائد افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئیں اور تمام بھرتیاں رنگ، نسل اور قومیت سے بالاتر ہوکر میرٹ کی بنیاد پر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے ایوان میں بھی واضح کیا تھا کہ نوکری فروخت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنی ماں کا دودھ فروخت کرے۔ اگر ان کے دور میں نوکریاں فروخت ہونے کا ثبوت مل جائے تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگ اپنے عوام کو جواب دہ ہوتے ہیں، مگر آج صورت حال یہ ہے کہ ان کے بقول کرپشن کرنے والے عناصر برملا اس کا اعتراف کرتے اور سینہ زوری بھی کرتے ہیں۔ بعض ارکان اسمبلی اور بدعنوان افسران مبینہ طور پر 20 فیصد کمیشن لینے کی بات کرتے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ نظام اس حد تک مفلوج ہوچکا ہے کہ جسے ٹریکٹر چلانا چاہیے وہ جہاز چلانے کی کوشش کر رہا ہے اور جہاز چلانے والا ٹریکٹر چلانے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کو مذاق قوم پرست جماعتوں نے نہیں بلکہ بڑی قومی جماعتوں نے بنایا ہے۔عبدالخالق ہزارہ نے مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنے سرپرستوں کے اشاروں پر عام انتخابات میں بندربانٹ کی۔ ان کے مطابق ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت اور سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا، اتنا کسی دوسرے فریق نے نہیں پہنچایا۔ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والوں نے ہی ووٹ کی حرمت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔انہوں نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواب اسلم رئیسانی جیسے قوم پرست رہنماں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومتوں نے کارکردگی دکھائی۔ اگر مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی میثاقِ جمہوریت اور قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتیں تو آج ملک کو موجودہ سنگین صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
