منشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئی

منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے نالی سے تعلیمی اداروں تک آگاہی مہم چلانا ہوگی،صوبائی پارلیمانی سیکریٹری برائے سوشل ویلفیئر


ضروری ہے کہ منشیات کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کیا جائے اور نوجوانوں کو اس تباہ کن راستے سے بچانے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات اپنا کردار ادا کریں‘ملک نعیم بازئی
فضل محمد فاؤنڈیشن کی منشیات بحالی مرکز میں تقریب، منشیات کے عادی افراد کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور؛ کمانڈر فضل محمد نورزئی کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، مقررین
کوئٹہ (قدرت روزنامہ) صوبائی پارلیمانی سیکریٹری برائے سوشل ویلفیئر حاجی ولی محمد نورزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و رکن بلوچستان اسمبلی ملک نعیم بازئی ‘فضل محمد فاؤنڈیشن کے سربراہ کمانڈر فضل محمد نورزئی نے کہا ہے کہ منشیات ایک سنگین معاشرتی لعنت ہے جس سے نوجوان نسل کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ منشیات کے خاتمے کے لیے نالیوں اور گلی محلوں سے لے کر تعلیمی اداروں تک مؤثر آگاہی مہم چلانے اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے فضل محمد فاؤنڈیشن کے سربراہ کمانڈر فضل محمد نورزئی کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کو علاج، توجہ اور بہتر ماحول فراہم کرکے معاشرے کا مفید شہری بنایا جاسکتا ہے‘ان خیالات کا اظہار انہوں نے فضل محمد فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منشیات بحالی مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال، نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے، بحالی مراکز کی خدمات اور متاثرہ افراد کو دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے حوالے سے اظہار خیال کیا گیا‘مقررین نے کہا کہ منشیات کا مسئلہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگر کسی گھر کا ایک فرد منشیات کی لت میں مبتلا ہوجائے تو والدین، بہن بھائیوں اور دیگر اہل خانہ کو شدید ذہنی، معاشی اور معاشرتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ منشیات کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کیا جائے اور نوجوانوں کو اس تباہ کن راستے سے بچانے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات اپنا کردار ادا کریں‘ صوبائی پارلیمانی سیکریٹری برائے سوشل ویلفیئر حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا ہے کہ منشیات ایک خطرناک معاشرتی لعنت ہے جو نہ صرف نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کرتی ہے بلکہ پورے خاندان کو ذہنی، معاشی اور معاشرتی مشکلات سے دوچار کردیتی ہے۔ منشیات سے پاک معاشرے کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے حکومت، سول سوسائٹی، والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ منشیات کے خلاف جدوجہد صرف کسی ایک ادارے یا تنظیم کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔ ہمیں نالیوں، گلی محلوں اور تعلیمی اداروں تک آگاہی مہم پہنچانا ہوگی تاکہ نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے بروقت آگاہ کرکے انہیں اس تباہ کن راستے سے محفوظ رکھا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے باعث ایک فرد کی زندگی متاثر ہونے سے پورا خاندان پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ والدین اپنی اولاد کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند رہتے ہیں جبکہ خاندان کو مختلف معاشرتی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ منشیات کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اس کے عادی افراد کے علاج اور بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔حاجی ولی محمد نورزئی نے کمانڈر فضل محمد نورزئی اور فضل محمد فاؤنڈیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے کام کرنا ایک قابلِ قدر انسانی خدمت ہے۔ ایسے افراد کو نفرت اور حقارت کے بجائے ہمدردی، علاج اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مناسب علاج اور بہتر ماحول فراہم کرکے انہیں دوبارہ زندگی کی طرف لایا جاسکتا ہے اور معاشرے کا مفید شہری بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے منشیات کے عادی افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنی زندگی کی قدر کریں، اپنے خاندان کی مشکلات کو سمجھیں اور منشیات سے دور رہنے کا عزم کریں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور کسی بھی مشکل سے نکلنے کے لیے ہمت، حوصلے اور درست رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔صوبائی پارلیمانی سیکریٹری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات کے خلاف شعور اجاگر کرنے اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں نوجوان تعلیم، کھیل اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب ہوں اور منشیات کے بجائے اپنے روشن مستقبل کو ترجیح دیں۔اس موقع پر رکن بلوچستان اسمبلی ملک نعیم بازئی اور دیگر مقررین نے بحالی مرکز میں جاری کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا کہ حکومت کی جانب سے ایسے مراکز کے قیام اور بحالی کی کوششوں میں تعاون فراہم کیا گیا۔مقررین نے منشیات کے عادی افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنی زندگی کی قدر کریں، منشیات سے دور رہیں اور علاج کے ذریعے ایک نئی زندگی شروع کرنے کا عزم کریں۔ انہوں نے والدین اور اساتذہ پر بھی زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی سرگرمیوں پر توجہ دیں، انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اور منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔تقریب کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات کے خلاف شعور اجاگر کرنے، متاثرہ افراد کی بحالی اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ ایک صحت مند، محفوظ اور منشیات سے پاک معاشرے کا قیام ممکن بنایا جاسکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈر فضل محمد نورزئی نے بحالی مرکز کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ منشیات کے عادی افراد پیدائشی طور پر اس لت میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ مختلف حالات، منفی صحبت اور منشیات فروشی جیسے عوامل انہیں اس تباہ کن راستے پر لے جاتے ہیں۔ ایسے افراد کو نفرت اور حقارت سے دیکھنے کے بجائے علاج، رہنمائی اور تعاون فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ سنوار سکیں۔انہوں نے کہا کہ فضل محمد فاؤنڈیشن کے بحالی مرکز میں اب تک تقریباً 1200 افراد کا علاج کیا جاچکا ہے۔ مرکز کی کوشش ہے کہ منشیات کی لت میں مبتلا افراد کو بہتر علاج اور تربیت فراہم کرکے انہیں معمول کی زندگی کی طرف واپس لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحالی مرکز میں زیر علاج افراد کو امید دلائی جارہی ہے کہ وہ منشیات سے نجات حاصل کرکے اپنے خاندانوں کے لیے سہارا بن سکتے ہیں اور مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت بھی کرسکتے ہیں۔کمانڈر فضل محمد نورزئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات کے پھیلاؤ کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، والدین اور سماجی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert