’عمران خان سے جس نے بھی بے وفائی کی اسے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، ٹرمپ اس کی مثال ہیں‘
یہ قانونِ فطرت ہے کہ جس شخصیت کے نام پر کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرے اور بعد میں اسی سے بے وفائی کرے، اسے عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صحافی ایثار رانا کی گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی ایثار رانا نے کہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ جس شخص نے بھی بے وفائی کی، اسے عوام کے ہاتھوں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے، یہ قانونِ فطرت ہے کہ جس شخصیت کے نام پر کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرے اور بعد میں اسی سے بے وفائی کرے، اسے عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایثار رانا کا کہنا تھا کہ عمران خان کے نام پر ووٹ لینے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے والے افراد نے جب ان سے بے وفائی کی تو انہیں عوام کی جانب سے مخالفت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتخابی کامیابی کے موقع پر عمران خان نے بھی ان کے حق میں شکایت کی تھی۔
عمران خان کے ساتھ جس نے بھی بے وفائی کی وہ بے عزت ہی ہوا ، ٹرمپ کو دیکھ لیں : ایثار رانا
#humnews
@_Mansoor_Ali
@NasrullahMalik1
@Isarrana1
@faheemgohar1
@iRaiSaqib https://t.co/oA3OMC7SqK— HUM News (@humnewspakistan) November 5, 2026
اس پر پروگرام کے میزبان منصورعلی خان نے سوال اٹھایا کہ کیا ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی وجہ سے کامیاب ہوئے؟ ایثار رانا نے جواب میں کہا کہ انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا اور بار بار گفتگو کا رخ تبدیل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ان کی بات مکمل نہیں ہوگی، مؤقف کو درست طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے کہتے تھے کہ ٹرمپ جب آئے گا تو لگ پتا جائے گا، آج وہی لوگ کہہ رہے کہ ٹرمپ ہار تو حکومت کو نقصان ہوگا، پی ٹی آئی والے پہلے بھی غلط تھے آج بھی غلط ہیں۔انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی شکست پاکستان کیلئے نہ اچھی نہ بری خبر ہے، پاکستان کا تعلق امریکی عوام کے ساتھ ہے، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے، لیکن پاکستان ایران کا حوصلہ بھی انجوائے کررہا ہے۔
ایران سعودی عرب کے تعلقات کتنے ہی کشیدہ کیوں نہ ہوں پاکستان کو سعودی عرب کا اعتماد بھی حاصل ہے۔پاکستان کی سیاسی عسکری قیادت کی دانشمندی ہے کہ ان ممالک کے ساتھ عزت واحترام کے رشتے قائم ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں ذاتی مفادات نہیں ممالک کے مفادات اہم ہوتے ہیں۔ہمارے لئے ان ممالک کے تعلقات میں دخل اندازی نہیں کی جاسکتی۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے کہتے تھے کہ ٹرمپ جب آئے گا تو لگ پتا جائے گا، آج وہی لوگ کہہ رہے کہ ٹرمپ ہار تو ہمارا نقصان ہوگا، پی ٹی آئی والے پہلے بھی غلط تھے آج بھی غلط ہیں، ان چیزوں کا پاکستان کے سفارتی تعلقات میں بہت کم عمل دخل ہوتا ہے۔
