افغانستان میں تمام گروپوں کونمائندگی ملنی چاہئے، پاکستان کو دو ٹوک اعلان
اسلام آباد (قدرت روزنامہ) افغانستان میں تمام گروپوں کونمائندگی ملنی چاہئے، آج پوری دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں،افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کے سوال پر حکومت پاکستان کا دو ٹوک ردعمل سامنے آگیا ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے پر دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں کہ مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، افغانستان کا مستقبل اس بات کا متقاضی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایک سیاسی حل نکالا جائے ، افغانستان میں تمام گروپوں کونمائندگی ملنی چاہئے۔
، افغانستان کی قیادت کی آزمائش کے لمحات ہیں ،عاشورہ کے بعد میں وزیر اعظم کی اجازت سے افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک سے رابطہ کروں گا ،ہمیں افغانستان کی بہتری مقصود ہے، موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار مثبت رہے گا، ہمارا افغانستان میں کئی فیورٹ نہیں ،افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے خود کرنا ہے ۔
اتوار کو ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بارہا یہ کہتا آیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے اور پاکستان کے اس موقف کو دنیا نے تسلیم کیا اور خصوصاً یہ وزیر اعظم عمران خان کا سالوں پرانا موقف ہے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں اور وہ ایک پیج یہ ہے کہ افغانستان کا مسئلہ گفت وشنید اور مذاکرات سے حل کیا جائے اور پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کا طریقہ کار سامنے آ جائے جو جامع ہونے کے سات ساتھ وسیع تر بھی ہو تاکہ افغانستان کے تمام گروپس کو اس میں نمائندگی مل سکے اور وہ پرامن طریقے سے افغانستان کے مستقبل کا حل تلاش کر سکے۔
انہوں نے کہاکہ اب یہ افغانستان کی قیادت کی آزمائش کے لمحات ہیں، افغانستان کے عوام امن چاہتے ہیں، وہ استحکام چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں اور انہیں نقل مکانہ نہ کرنی پڑے اور روزمرہ کا کاروبار بھی چلتا رہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ معاملات اسی طرح آگے بڑھے اور گفت و شنید سے مسئلہ حل ہو، ہماری کوششیں جاری ہیں، ہم تمام تر عمل کا حصہ رہے ہیں، دوحہ میں نشستیں ہوئیں، ٹرائیکا پلس میں بھی حصہ لیا، استنبول اور ماسکو کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عاشورہ کے بعد میں وزیر اعظم کی اجازت سے افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک سے رابطہ کروں گا اور ان سے تبادلہ خیال بھی ہو گا تاکہ ہم ایک پرامن حل کی طرف آگے بڑھ سکیں اور دیگر ہمسایوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک پیج پر ہوں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں افغانستان کی بہتری مقصود ہے، ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور ہمارا ایجنڈا امن و استحکام اور افغانستان کی یکجہتی و خوشحالی ہے، عوام کا تحفظ ہمارا ایجنڈا ہے اور ہم خون خرابے سے بچاؤ چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ افغان میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں ، جس کے بعد وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک بھی چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور ان کے تاجکستان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ، اس حوالے سے تاجک میڈیا نے بھی اشرف غنی کے وہاں پہنچنے کی تصدیق کردی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے صدارتی محل میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان اور افغان حکومت کے ملک میں نئی عبوری حکومت کے قیام کا معاہدہ طے پا گیا ہے ، جس کے تحت اشرف غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ، مذکرات میں کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے ، جس کے تحت طالبان عبوری حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے ، علی احمد جلالی نئی حکومت کے سرا راہ مقرر کئے جائیں گے ، سارے معاملے میں عبداللہ عبداللہ نے ثالث کا کردار ادا کیا ۔
افغانستان کے قائم مقام وزیرداخلہ عبدالستار مرزا کوال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت کی منتقلی پرامن طریقے سے ہوگی ، کابل کے شہری یقین رکھیں کہ سکیورٹی فورسز شہر کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔ دوسری طرف طالبان نے کابل میں پل چرخی جیل کا کنٹرول سنبھال لیا ، جہاں سے طالبان اپنے ساتھیوں کو نکال رہے ہیں جب کہ افغان طالبان کے اہم ترین لیڈر ملا عبدالغنی برادر کابل پہنچ گئے ہیں اور طالبان نے ملک میں عام معافی کا اعلان بھی کر دیا۔
