حکومت کی مثبت معاشی پالیسی، 2022 تک پاکستان سمارٹ فون برآمد کرنے والا ملک بن جائے گا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) حکومت کی مثبت معاشی پالیسی کام کر گئی، دنیا کی بڑی موبائل فون ساز کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے پلانٹس لگا لیے، 2022میں پاکستان سمارٹ فون برآمد کرنے والا ملک بن جائے گا- تفصیلات کےمطابق مشیر تجارت رزاق داﺅد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل آباد کو اب ایک نئی جدت کے ساتھ انٹرنیشنل مارکیٹ میں اترنا ہوگا، ہم صنعتکار کو اب اس مارکیٹ تک لے جانا چاہتے ہیں جہاں پہلے نہیں تھے ، حکومت آپ کی ساری تجاویز پر عمل کرنے کیلئے تیار ہے ، صنعتکاروں کو ہر قسم کی مدد دینے کیلئے تیار ہوں۔
مشیر تجارت نے کہا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل کے خام مال پر مکمل زیرو ڈیوٹی کر دی ہے ، توانائی کے شعبے میں ٹیکسٹائل کو بجلی اور گیس میں ریلیف دیا ہے۔

وزیر اعظم نے خود پوچھا کہ ٹیکسٹائل پالیسی منظور کیوں نہیں ہوئی ، وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ وزیر خزانہ سے اس پر بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آپ کا سب سے بڑا مطالبہ زیرو ریٹڈ کا ہے ، عید کے بعد وزیر اعظم کے ساتھ دو اجلاس ہیں ان میں اس پر بات کریں گے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے ملک میں موبائل ڈیوائس بنانے کے حوالے سے گزشتہ برس نئی پالیسی متعارف کروائی گئی تھی جس کے ثمرات اب آنا شروع ہو گئے- دنیا کی سب سے بڑی سمارٹ فون ساز کمپنی سیم سانگ نے پاکستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کا اعلان کر دیا ہے، اس حوالے سے اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ سیم سنگ نے اپنا یونٹ قائم کرنے کیلئے کمپنیوں کا انتخاب کر لیا، جنہیں شارٹ لسٹ کرنے کے بعد سمارٹ فون کی مینوفیکچرنگ کی ذمہ داری سونپی جائے گی- ذرائع کا کہنا تھا کہ 3 پارٹیوں میں سے ایک کے پاس کوریا کی فرنچائز ہے جس نے آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی (اے ڈی پی) 21-2016 کے تحت پاکستان میں گاڑیوں کے اسمبلنگ کے پلانٹس قائم کر رکھے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا کیوں کہ سام سنگ موبائل فون کی مینوفیکچرنگ کے لیے متعدد کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کرنے کے بعد ان میں سے ایک کو لائسنس دینے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہے۔ اسمارٹ فون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی نے آمدن کے تخمینے میں کہا کہ اسے اپریل سے جون کے دوران تقریباً 125 کھرب (11 ارب ڈالر) منافع حاصل کرنے کی توقع ہے جو ایک سال قبل کے 81 کھرب 50 ارب سے زیادہ ہے۔
موبائل فون سیکٹر میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے والے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ‘کورین کمپنی رواں برس کی آخری سہ ماہی میں سیل فون کی مقامی مینوفیکچرنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے’۔ مارکیٹ ذرائع نے کہا کہ سام سنگ پاکستان میں کام کرنے والی کورین کمپنیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ معاہدہ کرنے کے آپشن کو ترجیح دے سکتی ہے جس کی وجہ کمفرٹ لیول (آسانی) ہے جو شاید غیر کورین کمپنیوں کے ساتھ اسے نہ مل سکے۔
وزارت صنعت و پیداوار کے ایک شعبے انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے سال 2020 میں موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی منظور کی تھی جس کے بعد مارچ سے جون تک 21 کمپنیوں کو موبائل فون مینوفیکچرنگ کے لیے گرین سگنل مل چکا ہے۔ ای ڈی بی کی فہرست کے مطابق نوکیا، اوپو، انفنکس، ٹیکنو، آئی ٹیل، ویو، الفا، ریئل می، ویگوٹیل، ڈی کوڈ، کال می، ایکسیل، اسپائس، ٹی سی ایل الکاٹیل برانڈ کی یہ فیکٹریاں راولپنڈی، کراچی، لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد میں قائم ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایم ڈی ایم پی تشکیل دیا ہے تا کہ پاکستان میں موبائل مینوفیکچرنگ یونٹ لگانے کا فیصلہ لینے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ اس کا مقصد “میک ان پاکستان” کے بینر تلے مصنوعات کی تیاری اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021 کے 11 ماہ کے دوران موبائل فون کی درآمد 63 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 86 کروڑ ڈالر کی سطح تک جا پہنچی جبکہ مالی سال 2020 کے اسی عرصے میں یہ ایک ارب 13 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھی۔

WhatsApp
Get Alert