وزیر اعظم کے ڈیجیٹل ویڑن کی تکمیل کیلئے وزارت آئی ٹی کا کردار ناقابل فراموش ہے، امین الحق

وفاقی وزیر (قدرت روزنامہ)آئی ٹی سید امین الحق کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان ویڑن کی تکمیل کیلئے وزارت آئی ٹی کا کردار ناقابل فراموش ہے۔

تفصیلات کے مطابق یونیورسل سروس فنڈ کے تحت چاغی اور نوشکی میں ایک ارب 37 کروڑ لاگت سے 4 جی سروسز فراہمی منصوبے کی تقریب کی گئی ہے۔

چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کے ہمراہ بلوچستان کے اضلاع چاغی اور نوشکی میں فورجی سروسز کی فراہمی کے معاہدے کی تقریب میں شرکت کی۔

معاہدے پر یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حارث محمود چوہدری اور ٹیلی نار کے سی ای او عرفان وہاب خان نے دستخط کیے معاہدے کے تحت وزارت آئی ٹی ایک ارب 37 کروڑ روپے لاگت سے چاغی و نوشکی کے کروڑ روپے کی لاگت سے چاغی و نوشکی کے 170 دیہاتوں میں 4 جی سروسز فراہم کرے گی۔

تقریب میں سینیٹرنصیب اللہ بازئی، سیکرٹری آئی ٹی ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت، ممبر ٹیلی کام محمد عمر ملک، چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم باجوہ اور عمران اختر شاہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 8 ارب روپے کے 11 منصوبے ڈیجیٹل بلوچستان بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان ویڑن کی تکمیل کیلئے وزارت آئی ٹی کا کردار ناقابل فراموش ہے جس میں چاروں صوبوں آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکشن کے یکساں منصوبےشروع کیئے گئے ہیں جبکہ اس منصوبے کے بعد بلوچستان کے 14 اضلاع کیلئے 8 ارب 43 کروڑ روپے کی لاگت سے مجموعی پراجیکٹس کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان کی شاہراہوں اور موٹرویز پر مسافروں کو بلاتعطل موبائل سروسز فراہمی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جس کے تحت این ایچ 25 سے این ایچ 10 تک 701 کلو میٹر شاہراہ پر موبائل سروس فراہمی کا منصوبہ 75 کروڑ 90 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ این ایچ 25 سے این ایچ 65 تک 650 کلو میٹر شاہراہ پر 25 کروڑ جبکہ این ایچ 50 سے این ایچ 70 تک کے 451 کلو میٹر شاہراہ پر 41 کروڑ سے زائد لاگت سے پرا جیکٹس زیر تکملی ہیں۔

چاغی اور نوشکی منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کا کہنا تھا کہ ان دونوں اضلاع کے 170 دیہات میں 4 جی کی فراہمی کا منصوبہ 18 ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ایک لاکھ 60 ہزار 915 رہائشیوں کو ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ سروسز کی سہولیات میسر آجائیں گی۔

سید امین الحق نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان کے تمام دیہاتی علاقوں میں ڈیجیٹل کنیکٹوٹی بڑھانے کیلئے تیزی سے کام جاری ہے کیونکہ ٹیکنالوجی اپنی رفتار میں کسی کا انتظار نہیں کرتی اس کے ساتھ چلنا ہوتا ہے پھر ای کامرس، ای ایجوکیشن اور ای صحت سے لے کر ہر شعبے میں کنیکٹیوٹی انتہائی ضروری ہے اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام لوگ براڈ بینڈ کے ساتھ منسلک ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں آئی ٹی سیکٹر گروتھ 47 فیصد رہی آئی ٹی سیکٹر سے ہم نے 2 ارب 10 کروڑ ڈالرز سے زائد برآمادی ترسیلات حاصل کئے آئندہ سال اس کا ہدف 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کا رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور روزگار کی فراہمی کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی اصل مستقبل ہے، بلوچستان کے حوالے سے وزارت آئی ٹی کے منصوبوں کی تفصیلات صرف میرے لیئے ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے عوام کیلئے خوشی کا باعث ہیں کہ ہمارا صوبہ ہمیشہ محرومیوں کا شکار رہا ہے بنیادی مسائل کے علاوہ وہاں کنیکٹوٹی کے بھی شدید مسائل تھے۔ بلوچستان کے نوجوان فور جی سروسزکی فراہمی سے مستفید ہونگے، فور جی سروسز سے بلوچستان کے لوگوں کا احساس محرومی ختم ہوگا یہ اہم بات ہے کہ ملک کو معاشی طور پر پمسحکم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے انفامیشن ٹیکنالوجی ہی اصل مستقبل ہے۔

WhatsApp
Get Alert