پاک ایران بارڈر سینکڑوں گاڑیاں روک دی گئیں کاروبار معطل روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان
گوادر(قدرت روزنامہ)ایف آئی اے گوادر انسپکٹر کی مبینہ کارستانیاں۔ پاک ایران 250 ریمدان بارڈر پر سینکڑوں گاڑیاں باڈر کے دونوں اطراف روک دی گئیں۔ایکسپورٹ اور امپورٹ مکمل طور پر معطل۔ریونیوں کی مد میں حکومت پاکستان کو روزانہ کروڑوں روپے نقصان،تاجروں کے کروڑوں روپے کے آم، کھجور، اور دوسرے فریش فروٹ خراب ہونے کا خدشہ۔ واضح رہے کہ چند دن قبل ایف آ ئی اے کا ایک انسپکٹر کراچی سے گوادر ٹرانسفر ہوا جس کا مشن باڈر ٹریڈ کو روک کر ذاتی مفاد حاصل کرناھے،یاد رہے کہ تفتان باڈر کراچی، سندھ اور جنوبی پنجاب سے کافی فاصلہ ھونے کی وجہ سے زیادہ تر ٹریڈ گوادر باڈر 250 پر منتقل ہورہے ہیں حال ہی میں تعینات ہونے والے ایک انسپکٹر نے پاسپورٹ کا بہانہ کرکے سینکڑوں گاڑیوں کو بارڈر پر روک دی ہیں،جس سے ایکسپورٹ امپورٹ مکمل طور پر معطل رہا۔پاک ایران بارڈ معاہدہ کے تحت بازارچہ یالوکل مارکیٹ سے آنے والے گاڑیاں تفتان، چمن، مند، اور پنجگور میں پاسپورٹ سے مسثنی ہیں واضح رہے کہ باڈر 250 میں ماہانہ 500 ملین ٹیکس FBR میں جمع ہورہا ہے جبکہ گزشتہ سال FBR کے ایک جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بارڈر ٹریڈ ریکارڈ ٹیکس جمع کرچکا ہے۔۔FIA گوادر کی اس عمل سے اور اپنے اختیارات کی تجاوزسے امپورٹر اور ایکسپورٹر کو کروڑوں روپے کی نقصان کی سبب بن رہا ہے جبکہ مکران میں قحط سالی، پاک ایران باڈر باڈر کی فینسگ کی وجہ سے مکران اور ضلع گوادر میں لوگوں کی روزگار کا ایک ذریعہ باڈر پر قانونی ٹریڈ اسکو بھی FIAکے چند لالچی افسران مختلف بہانے سے بند کرنا چاہتے ہیں لھذا GOC 44,ڈپٹی کمشنر گوادر DG,FIA فوری طور پر نوٹس لیکر باڈر 250 کو کھول دیں باڈر ٹریڈ کے قانونی گیٹ کے بند کرنے سے دونوں اطراف کے تاجرؤں کو روزانہ کروڈوں روپے کے نقصان ہونے سے بچائیں اگر FIA نے اپنے زیادتیاں بندنہ کی تو تاجر برادری احتجاج پر مجبور ہونگے۔
