پاکستان میں اس وقت “جھنڈے میں ڈنڈے” کی حکومت ہے ۔۔۔ حافظ حمداللہ
"ستائیسویں آئینی ترمیم آئین سے مذاق ہے، سیاستدانوں نے آئین کو کھیل تماشہ بنا دیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما اور سینیٹر مولانا حافظ حمداللہ نے ستائیسویں آئینی ترمیم پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کل کہا جاتا تھا سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کی تشکیل عدلیہ کے مفاد میں ہے، آج کہا جا رہا ہے آئینی عدالت مفاد میں ہے، کیا یہ آئین سے مذاق نہیں؟ انہوں نے کہا کہ اب آئینی فیصلے ادارہ جاتی اور شخصی مفادات پر مبنی ہو چکے ہیں، سیاستدانوں نے آئین کو کھیل تماشہ اور بازیچہ اطفال بنا دیا ہے، ایسے لوگ 1973 کے آئین کا کریڈٹ لینے کے اہل نہیں جو روز اسے قربانی کا بکرا بناتے ہیں۔ مولانا حافظ حمداللہ نے کہا کہ اقتدار کے حصول کے لیے آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ سب کچھ داؤ پر لگا دیا گیا ہے، پارلیمنٹ ایک ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے اور قوم کا اعتماد نظام اور قیادت دونوں سے ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے آذربائیجان سے ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ اجلاس کی صدارت اور ترمیم کی منظوری میں جلد بازی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہاں صرف جھنڈے کی نہیں بلکہ “جھنڈے میں ڈنڈے” کی حکومت ہے، کیونکہ موجودہ نظام میں ڈنڈے کے بغیر نہ جھنڈا نظر آتا ہے اور نہ کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔
