پاکستان تحریک انصاف کا ترلائی امام بارگاہ سانحہ پر وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر ذمہ داران کے استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

اسلا آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف ترلائی امام بارگاہ اسلام آباد میں ہونے والے اندوہناک دہشتگرد حملے کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ ابتدائی طور پر پارٹی نے شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی اور زخمیوں کیلئے دعا کا اظہار کیا تھا۔ اب ذرائع ابلاغ اور خود ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق اس سفاکانہ حملے میں کم از کم 31 افراد شہید جبکہ 169 نمازی زخمی ہوئے ہیں، جو کہ ایک انتہائی بڑا قومی سانحہ اور وفاقی حکومت کی سنگین ناکامی ہے۔
اسلام آباد جیسے حساس شہر اور وفاقی دارالحکومت میں اس نوعیت کا دہشتگرد حملہ ہونا حکومتی سیکیورٹی ڈھانچے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس سے قبل نومبر 2025 میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں بھی 12 افراد شہید ہوئے تھے، مگر افسوس کہ ایسے واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ اس سانحے کی ذمہ داری وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور اسلام آباد پولیس پر عائد ہوتی ہے، موجودہ حکمران عوامی مینڈیٹ سے محروم ہیں، تاہم شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے، جس میں مسلسل ناکامی ناقابل قبول ہے۔
حالیہ دنوں میں اپوزیشن اتحاد “تحریک تحفظ آئین پاکستان” کی 8 فروری کی کال کے باعث حکومتی وسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ عوام کے تحفظ کے بجائے تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں کی گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن پر مرکوز رہی، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی کے بنیادی فرائض متاثر ہوئے۔ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر پرامن سیاسی سرگرمیوں کو کچلنے میں مصروف ہوں تو ایسے سانحات جنم لیتے ہیں، اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس المناک سانحے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پمز ہاسپٹل میں زخمیوں کی عیادت کے لیے پہنچی تو اسی دوران اسلام اباد پولیس کی بھاری نفری نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی بخاری کے گھر پہ چھاپہ مارا، اس طرح کی اچھی حرکات کی وجہ سے قیمت معصوم شہری اپنی جانوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر آئی جی اسلام آباد کو عہدے سے ہٹایا جائے اور وفاقی وزیر داخلہ سے استعفیٰ لیا جائے۔ مزید برآں اس افسوسناک سانحے کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جا سکے۔
