وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا دہشت گردی میں شہید پولیس اہلکاروں کے گھروں کا دورہ، لواحقین کیلئے ملازمتوں اور تعلیمی اخراجات کا اعلان

کوئٹہ (قدرت روزنامہ): وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 31 جنوری کو کوئٹہ میں پیش آنے والے دہشت گردی کے سفاکانہ واقعات میں شہید ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے گھروں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی، دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کی۔
وزیراعلیٰ نے شہید پولیس جوانوں کے بچوں سے خصوصی ملاقات کی، انہیں پیار و شفقت دی اور کہا کہ یہ بچے صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پوری قوم کا روشن مستقبل اور امید ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی کفالت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مروجہ معاوضہ پالیسی کے تحت پولیس شہداء کے لواحقین کو فوری مالی معاونت کے ساتھ دو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی، جن میں ایک محکمہ پولیس اور دوسری کسی دوسرے سرکاری محکمے میں دی جائے گی۔ انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ تمام تعیناتی آرڈرز ایک ہفتے کے اندر جاری کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ شہداء کے بچوں کی تعلیم سے متعلق تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی تاکہ وہ بلا خوف و فکر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے شہید اے ایس آئی محمود الرحمن کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سریاب تھانے کو ان کے نام سے منسوب کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس کی جانب سے شہداء کے لواحقین کو گھر کی تعمیر اور دیگر ضروریات کے لیے پچپن لاکھ روپے فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کی بہبود کے لیے حسبِ ضرورت دیگر ممکنہ وسائل بھی مہیا کیے جائیں گے۔
لواحقین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام شہداء کے خون کے قرض دار ہیں اور حکومت اپنے شہداء کے خاندانوں اور غازیوں کو کبھی لاوارث نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں، بالخصوص ہندوستان کے ایماء پر دہشت گرد عناصر پاکستان اور بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں، تاہم ایسی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی مکمل، شفاف اور پیشہ ورانہ تحقیقات جاری ہیں، جن میں خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے اور تحقیقاتی ٹیمیں چوبیس گھنٹے سات دن کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان دہشت گردی سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور ریاست دشمن عناصر کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لے گی۔
اس موقع پر صوبائی وزراء بخت محمد کاکڑ، عاصم کرد گیلو، نور محمد دمڑ، میر ظہور بلیدی، حاجی علی مدد جتک، مشیر بلدیات نوابزادہ بابا امیر حمزہ زہری، پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
