رمضان راشن پیکج میں اربوں کی مبینہ بدعنوانی اور غیر شفافیت: پشتونخوامیپ کا پیکج کی بندر بانٹ کے خلاف آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت کا رمضان راشن پیکج 2026 سنگین بے ضابطگیوں، غیر شفافیت اور ممکنہ مالی بدعنوانی کی زد میں آ چکا ہے جس پر فوری تحقیقات اور کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے دعوی کیا تھا کہ اس پیکج کے تحت تقریبا 3 لاکھ 28 ہزار مستحق خاندانوں کو راشن فراہم کیا جائے گا، جس کے لیے اندازا6 سے 7 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی۔ لیکن 8 ہزار سے 12 ہزار روپے مالیت کا راشن بیگ اور کل لاگت تین سے چار ارب روپے بنتی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے شفافیت کے دعوے کیے گئے، مگر زمینی حقائق ان دعوں کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔کیونکہ یہ پیکج مستحق اور نادار افراد کے لیے تھا،لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں مستحق افراد اس بنیادی حق سے محروم رہ گئے۔ صوبے کے دیگر اضلاع بالخصوص کوئٹہ کے 30لاکھ سے زائد آبادی کے شہر کے لیے تقریبا 36ہزار راشن بیگز رکھنا انتہائی افسوسناک ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع سے عوامی شکایات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ راشن کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوئی بلکہ اسے بااثر افراد اور حکومتی نمائندوں میں بندر بانٹ کیا گیا۔اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں راشن بیگز مسلط نام نہاد ایم پی ایز اور بااثر افراد کے گھروں میں موجود ہیں، یہ پورا عمل شفافیت سے دور اور بدانتظامی کا شکار رہا جو اس پورے پروگرام کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پیکج کی تقسیم کو شفاف اور کرپشن فری بنانے کے لیے ہر ضلع میں 8 رکنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دے دی گئی تھی جس کا مقصد ہر مستحق خاندان کی دہلیز تک رمضان پیکج پہنچانا تھا لیکن بدقسمتی سے مستحق، سفید پوش، غریب ومستحق عوام کے نام پر آنے والی امداد ذاتی تعلقات، کرپشن اور اقربا پروری کی نذر ہوئی۔بیا ن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس پورے پیکج کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور تمام اضلاع کی تقسیم اور رمضان راشن پیکج کی مکمل تفصیلات، خریداری کا ریکارڈ اور تقسیم کی فہرستیں فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جائیں اور جو بھی اس بدعنوانی میں ملوث پایا جائے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

WhatsApp
Get Alert