بلوچستان میں بدامنی اور حادثات: ڈھاڈر میں ڈی سی آفس پر بم حملہ اور ریلوے ٹریک تباہ؛ کوئٹہ اور پنجگور میں فائرنگ سے 2 افراد قتل، مغوی خواتین بازیاب جبکہ ٹریفک حادثے میں سینئر صحافی زخمی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)کوئٹہ، ڈھاڈر، بیلا، صحبت پور، پنجگور: بلوچستان کے مختلف شہروں میں بدامنی، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور ٹریفک حادثات کے مختلف واقعات میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے اور سینئر صحافی سمیت کئی افراد زخمی ہوئے، جبکہ ڈھاڈر میں ڈی سی آفس اور ریلوے ٹریک کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب لسبیلہ پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے حب سے اغوا ہونے والی دو خواتین کو بازیاب کروا لیا۔
تفصیلات کے مطابق، ضلع کچھی کے ہیڈ کوارٹر ڈھاڈر میں گزشتہ رات بدامنی کے دو بڑے واقعات پیش آئے۔ نامعلوم افراد نے ڈپٹی کمشنر آفس کچھی پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ کے باوجود حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ اسی رات ڈھاڈر کے علاقے ڈنگڑا میں ریلوے ٹریک کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا گیا، جس سے ٹریک کا دو فٹ حصہ تباہ اور ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ ریلوے حکام ٹریک کی بحالی کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ پورے ضلع میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
ادھر کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے صحبت پور کی تحصیل فرید آباد کنڈی کے رہائشی حفیظ اللہ کھوسو کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ صوبائی وزیر مواصلات میر سلیم خان کھوسہ اور دیگر معززین نے اس واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی طرح پنجگور کی سرحدی تحصیل پروم کے علاقے جائیں میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے اختر ولد محمد انور کو قتل کر دیا، جبکہ ایک اور فائرنگ کے واقعے میں اورنگزیب ولد عبدالمالک شدید زخمی ہو گیا جسے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے دونوں واقعات کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
جرائم کی ان وارداتوں کے دوران بیلا سے ایک مثبت خبر بھی سامنے آئی، جہاں ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی کی ہدایت پر ایس ایچ او بیلہ یار محمد کمانڈو نے مسافر خانہ کے مقام پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دو مغوی خواتین (س اور ش) کو بحفاظت بازیاب کر لیا۔ ان خواتین کو حب کے علاقے نیو بلوچ کالونی سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کا مقدمہ (نمبر 80/2026) تھانہ بیروٹ میں درج تھا۔ بازیاب خواتین کو قانونی چارہ جوئی کے لیے حب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
دریں اثناء، منگل کے روز بولان کے مقام پر ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں سینئر صحافی اعظم الفت سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔ اعظم الفت کو شدید چوٹیں آنے پر فوری طور پر کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حادثے کی خبر پر صحافی برادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاؤں کی اپیل کی گئی ہے۔ متعلقہ انتظامیہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert