شمالی بلوچستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں، قلعہ سیف اللہ میں طوفانی بگولوں اور ژالہ باری نے تباہی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے
2022 سے جاری موسمی تغیرات نے معاشی و سماجی نظام تباہ کر دیا، انڈے سے بڑے اولوں اور 80 میل فی گھنٹہ کی آندھی سے نظامِ زندگی مفلوج

قلعہ سیف اللہ (ڈیلی قدرت) شمالی بلوچستان ایک بار پھر شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ شمالی و بالائی پاک-افغان سرحدی اضلاع—قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، چمن، زیارت، دکی، سنجاوی، ہرنائی، لورالائی، توبہ اچکزئی اور توبہ کاکڑی—میں 2022 سے جاری موسمی تغیرات نے معاشی و سماجی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مون سون سے قبل موسمِ بہار کی حالیہ بارشیں بھی اب تباہ کن صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
رواں ماہ قلعہ سیف اللہ میں آنے والے مسلسل غیر معمولی طوفانی سسٹمز نے تباہی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ تیز رفتار آندھی، خطرناک بگولوں اور شدید ژالہ باری نے نظامِ زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔
گزشتہ روز ضلع کے مختلف علاقوں—کاریزموسی زئی، بندات میرزئی، طورہ وسکئی، شاگئی میرزئی، بختیار اڈا اور دولتزئی—میں پہلی بار طوفانی بگولوں کے ساتھ انڈے سے بھی بڑے سائز کے اولے گرنے کے مناظر دیکھے گئے، جو کسی شدید بمباری سے کم نہ تھے۔ اس غیر معمولی طوفان نے ہر شے کو نقصان پہنچایا۔
80 میل فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے چلنے والے بگولوں اور شدید ژالہ باری نے فصلیں تباہ کر دیں، جبکہ سیب، آڑو اور خوبانی سمیت سینکڑوں پھلدار درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔ درجنوں بجلی کے کھمبے کئی کلومیٹر دور جا گرے، ہزاروں سولر پلیٹس اور سائن بورڈز فضا میں بکھر گئے۔ متعدد دیہات میں مکانات منہدم ہو گئے، دیواریں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور گھروں کی چھتیں اڑ گئیں۔
سیکڑوں پرندے ہلاک ہوئے، گاڑیوں کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئیں جبکہ کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا کر الٹ گئیں۔ درجنوں زرعی سولر ٹیوب ویلز بھی ناکارہ ہو گئے، جس سے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غوریزئی نے کہا کہ اس نوعیت کی آفت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں اور متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ جلد ہی سروے مکمل کر کے رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کی جائے گی تاکہ نقصانات کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
جے یو آئی کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسیع کے ہمراہ دورے کے دوران ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے بگولے اور شدت کی قدرتی آفات نے دہائیوں پرانے درختوں اور مضبوط پکے مکانات کو بھی تباہ کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے جاری سروے جلد مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد متاثرین کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کیے جائیں گے۔
