بلوچستان میں بدامنی اور حادثات: ڈھاڈر میں پولیس تھانے اور نادرا آفس پر بم حملہ و فائرنگ، کوئٹہ میں مشینری نذرِ آتش؛ مختلف واقعات میں قبائلی رہنما سمیت 2 جاں بحق، سیکیورٹی گارڈ سمیت 6 زخمی


ڈھاڈر، مستونگ، ڈیرہ اللہ یار، جعفرآباد، تمبو، چھتر، کوئٹہ، چاغی ( ڈیلی قدرت ) بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی، فائرنگ، ٹریفک حادثات اور ڈوبنے کے مختلف واقعات میں قبائلی شخصیت اور کمسن بچی سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ سیکیورٹی گارڈ اور اس کی بیٹی سمیت 6 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ڈھاڈر میں پولیس تھانے اور نادرا آفس پر دستی بم حملے اور فائرنگ کی گئی، جبکہ دوسری جانب چاغی حملے میں جاں بحق غیر ملکی سمیت 8 افراد کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں اور مستونگ سے اغوا ہونے والے سیاسی رہنما بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں جمعہ کی رات نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانے اور نادرا آفس کو نشانہ بنایا۔ ایس ایچ او منظور ابڑو کے مطابق مسلح افراد نے تھانے پر ہینڈ گرنیڈ پھینکا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا اور ساتھ ہی فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی پر ملزمان فرار ہو گئے۔ ڈھاڈر میں ہی ملزمان نے نادرا آفس پر بھی اندھا دھند فائرنگ کی جس سے کمپیوٹرز کو نقصان پہنچا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے مسلح افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔ ادھر کوئٹہ کے نواحی علاقے اسپن کاریز میں طور غر کے مقام پر گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی اور گیس سے متعلق کام کرنے والی مشینری کو آگ لگا دی اور فرار ہو گئے، جس پر سیکیورٹی فورسز ملزمان کی تلاش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع چاغی میں این آر ایل کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والے ایک ترک باشندے عمر سمیت آٹھ افراد کی لاشوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کے بعد روانہ کر دیا گیا۔ غیر ملکی شہری کی لاش کو طیارے کے ذریعے کراچی منتقل کر کے ترک قونصلیٹ کے حوالے کیا گیا، جبکہ دیگر افراد کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو بھیج دی گئیں۔
مستونگ کے علاقے کلی دتو میں بدامنی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں نامعلوم نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں نے شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ مجید ساسولی کے گھر پر دستک دے کر ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں مجید ساسولی اور ان کی کمسن بیٹی شدید زخمی ہو گئے، جنہیں تشویشناک حالت میں کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اہل علاقہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، مستونگ ہی کے علاقے دشت کمبیلا سے اغوا ہونے والے پی ٹی آئی کے رہنما سردار دودا شاہوانی اور ان کے دو رشتہ دار بحفاظت بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں، جس پر سیاسی اور قبائلی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
صوبے کے دیگر علاقوں میں ٹریفک حادثات اور فائرنگ کے واقعات نے بھی شہریوں کو متاثر کیا۔ ڈیرہ اللہ یار کے قریب کار اور موٹر سائیکل کے تصادم میں کوہلو کی سرکردہ قبائلی شخصیت وڈیرہ مہر گل مری جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ تمبو کے علاقے منجھو شوری میں گوٹھ کرم علی عمرانی کے قریب گھات لگائے مسلح افراد کی فائرنگ سے رجب علی عمرانی، اور چھتر میں گوٹھ شیرانی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان بخش علی جکھرانی شدید زخمی ہو گئے۔ دونوں زخمیوں کو ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد تشویشناک حالت میں لاڑکانہ ریفر کر دیا گیا ہے۔
دریں اثناء، جعفرآباد کے تھانہ ڈیرہ اللہ یار کی حدود میں واقع بھنگر کالونی میں ایک انتہائی اندوہناک واقعہ پیش آیا جہاں پانی کے تالاب میں نہاتے ہوئے دو بچیاں ڈوب گئیں۔ مقامی افراد اور رضاکاروں کی انتھک کوششوں سے ایک بچی کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی، جبکہ دوسری بچی کی تلاش کے لیے پولیس، انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کا آپریشن تاحال جاری ہے۔ اس المناک واقعے سے پورے علاقے میں شدید سوگ اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متعلقہ تھانوں کی پولیس نے درج بالا تمام واقعات کے مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert