منیر کاکڑ کا بیان منقسمانہ ذہن کی عکاسی ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ پر لغو اور بے بنیاد الزامات لگا کر اخلاقیات سے گری ہوئی زبان استعمال کی گئی ، امان اللہ کنرانی کا جوابی وار

سیٹلمنٹ میں مداخلت کا الزام چیف جسٹس پر عائد کرنا حقائق چھپانے کے مترادف ہے، بلیک میلنگ کے سامنے جھکنے کی بجائے جرات سے فیصلے کرنے پر آہ و پکار ہو رہی ہے، سینیٹر (ر) امان اللہ کنرانی کا جوابی وار


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) سپریم کو رٹ بار ایسوسیشن پاکستان کے سابق صدر سینیٹر(ر)امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میری نظر سے پاکستان بار کونسل کے بلوچستان سے ایک معزز رکن کا بیان گزرا ہے یہ ایک فرد واحد کے منقسمانہ ذہن و منتشرانہ خیالات کا عکاسی کرتے ہیں جبکہ پاکستان بار کونسل کے 23 رْکنی ادارہ اس کی ذمہ داری نہیں لے سکتا وہ آئین کے تیسرے ستون کے صوبے آئینی سربراہ کے بارے میں بلا تحقیق لغو بے بنیاد تہمت و الزامات لگا کر اخلاقیات سے گری ہوء زبان استعمال کرکے اپنی تحریر کو اسی بازاری زمرے میں لائے ہیں جس کی انہیں شکایت ہے ھمارے اداروں کے پاس ترجمان ہوتے ہیں آرمی کے پاس ISPR کا موثر ادارہ جواب دینے کے لئے موجود ہیں بدقسمتی سے عدلیہ ہی ایک بے زبان ادارہ ہے جو زبان سے نہیں قلم سے بولتی ہے جو اپنے قلم کے ہر تحریر کا مْکلف ہوتا ہے کسی کو عدلیہ کے کسی فیصلے پر عذر ہے تو آئین و وقانون و قواعد کے تحت اس کو متعلقہ فورم پر چیلنج کیا جاسکتا ہے اگر مبینہ طور سیٹلمنٹ میں کسی کی مداخلت کا شکوہ ہے تو اسکی ذمہ داری چیف جسٹس یا کسی رشتہ دار پر عائد کرنا حقائق کو انگلی سے چھپانے کے مترادف ہے جبکہ حقیقت میں سیٹلمنٹ صوباء حکومت کے محکمہ مال کا کام ہے حکومت کے صوباء سربراہ وزیراعلی و پیپلز پارٹی ہے جس کے موصوف لاڈلے اور اس کے پہلو میں بیٹھے نظر آتے ہیں جبکہ سرکاری طور محکمہ مال کے سربراہ سینئیر ایم بی آر ایک محترم و معزز شخصیت ہیں جس کی قربت و نسبت چیف جسٹس سے نہیں بلکہ رشتہ کے لحاظ سے اس کے اپنے صوباء بار کونسل کے وائس چیئرمین کے خاندان سے ہیں ان حقائق کے باوجود محترم منیر کاکڑ صاحب چیف جسٹس بلوچستان ھای کورٹ پر غصہ نکالتے ہیں تو اس کی وجوھات وہ نہیں جو بیان کئے گئے اس کے وجوھات پرانے ہیں جب اپنے استاد سمیت معزز مقامی جج صاحبان کی عزت کو اْچھال کر ان سے عدلیہ کے اندر بٹوارے میں حصہ لیتے رہے ہیں اب ماشائ￿ اللہ موجودہ چیف جسٹس کسی کے بلیک میلنگ میں آنے کی بجائے میرٹ اور اصولوں کی بنیاد پر اپنے کام کا محور سمجھتے ہیں اس لئے ان کے خلاف آہ پْکار کی جاتی ہے ھم چیف جسٹس صاحب سے گزارش کرتے ہیں وہ بلیک میلنگ کے سامنے جھکنے کی بجائے جرات کے ساتھ اپنے فیصلے و عملی کردار ادا کرتے رہے ہیں بلوچستان بھر کے وکلائ￿ آپ کے ساتھ ہیں

WhatsApp
Get Alert