بشریٰ بی بی سے فیملی ملاقات کی درخواست، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور سلمان اکرم کے درمیان تلخی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی اور فیملی ملاقات کی درخواست پر سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد اور سلمان اکرم کے درمیان تلخی ہوگئی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی۔ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک اور بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے سلمان اکرم راجا عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل بننے کے بعد نوید حیات ملک پہلی دفعہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اے جی صاحب مبارک ہو، جس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے کہا خبر مبارک سر۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ میں نے آج چارج ابھی لینا ہے۔ اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ ابھی آرہے ہیں وہ راستے میں ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ مجھے ایک دن کا وقت دے دیں اس میں ایمرجنسی نہیں ہے، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ معاملہ فوری نوعیت کا ہے کیونکہ فیملی کی ملاقات بھی نہیں ہو رہی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وہ سزا یافتہ مجرم ہے اور جیل مینول کے مطابق ہی ان کو دیکھنا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیے کہ منگل کے دن کی بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، آج سپرنٹنڈنٹ کو بلایا گیا تھا وہ آیا ہی نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے ان کی ریپریزنٹیشن پر فیصلہ کر دیا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے سوال اٹھایا کہ یہ فون پر کون سی سماعت ہوتی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جس جس دن ملاقات ہوئی اس کا ریکارڈ پیش کر دوں گا۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بیٹی کو یہ کیوں نہیں ملنے دے رہے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ جیل مینوئل کے مطابق ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور ہر چیز اوکے ہے۔

دوران سماعت، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد اور سلمان اکرم راجا کے درمیان تلخی ہوگئی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ میں تو سلمان صاحب کو سینیئر سمجھتا ہوں۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ فیملی ممبرز کی 24 فروری کو آخری ملاقات ہوئی تھی، میں 8 گھنٹے جیل کے باہر کھڑا رہا یہ کہتے ہیں ہم نے فون پر سن لیا، پتہ نہیں کیسے فون پر سن لیا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے کہا کہ ایک موقع دے دیں، میں تمام رپورٹس عدالت کے سامنے پیش کر دوں گا لیکن یہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ آپ اگر نہیں ہوں گے تو کوئی اور وکیل پیش ہوں جائے گا۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ گزشتہ روز منگل کو ملاقات نہیں ہوئی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ذاتی حیثیت میں آئندہ سماعت پر آئیں گے، اگر نہیں آئیں گے تو ہم یہی سے آدمی بھجوائیں گے اور وہ گرفتار کرکے لے آئے گا۔

عدالتی حکم کے باوجود سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئندہ منگل کو دوبارہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو طلب کر لیا۔ ہائیکورٹ نے کہا کہ پیر کے روز بشریٰ بی بی کی بیٹی کو دوبارہ ذاتی حیثیت میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ سنے۔

عدالت نے بشریٰ بی بی کی طبی حالت اور جیل ملاقاتوں کے حوالے سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

WhatsApp
Get Alert