سعودی عرب کا گرین کارڈ چاہیے؟ جانیں اسپیشل ریزیڈنسی کے فوائد، اہلیت اور درخواست کا طریقہ

سعودی عرب (قدرت روزنامہ)سعودی عرب کا پریمیم ریزیڈنسی پروگرام جسے اکثر گرین کارڈ آف سعودی عرب بھی کہا جاتا ہے غیر ملکی ماہرین کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ بغیر کسی مقامی اسپانسر (کفیل)کے ملک میں رہ سکیں، کام کر سکیں اور جائیداد خرید سکیں۔یہ پروگرام 2019 میں شروع ہوا تھا اور جنوری 2024 میں اس میں نمایاں توسیع کی گئی جس کے بعد اب اس کی 7 مختلف کیٹیگریز موجود ہیں۔ان میں دو اہم ترین راستے اسپیشل ٹیلنٹ ریزیڈنسی اور گفٹڈ ریزیڈنسی ہیں۔
اسپیشل ٹیلنٹ ریزیڈنسی: اعلیٰ درجے کے پیشہ ور افراد کے لیے
یہ ریزیڈنسی ان افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو قیادت، طب یا سائنسی تحقیق جیسے شعبوں میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔سعودی عرب ایسے ماہرین کو ترجیح دیتا ہے جو مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور عالمی معیار کا علم لانے میں مدد کر سکیں۔
اس میں عام طور پر سینئر ڈاکٹرز، معروف محققین، بایومیڈیکل سائنسدان، یا بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدے دار شامل ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان شعبوں میں طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں تو یہ پروگرام آپ کے لیے بنایا گیا ہے۔
اہلیت کے معیار (مختلف کیٹیگریز)
یہ پروگرام تین مختلف پیشہ ورانہ گروپس کے لیے الگ شرائط رکھتا ہے۔
محققین کے لیے
منظور شدہ ادارے کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ
کم از کم ماہانہ تنخواہ 14,000 ریال
بیچلر ڈگری یا اس سے اعلیٰ تعلیم
تین سال سے زیادہ تجربہ
پوائنٹس سسٹم میں مطلوبہ اسکور
آجر کی سفارش
کم از کم 3 تحقیقی مقالے شائع ہونا
صحت اور سائنسی ماہرین کے لیے
منظور شدہ ادارے میں ملازمت
کم از کم 35,000 ریال ماہانہ آمدنی
متعلقہ تجربہ 3 سال سے زیادہ
تعلیمی قابلیت بیچلر یا اس سے اوپر
پوائنٹس سسٹم کی شرط
آجر کی سفارش
ایگزیکٹو لیول افراد کے لیے
لیول 1 یا 2 ایگزیکٹو عہدہ
کم از کم 80,000 ریال ماہانہ تنخواہ
کمپنی کی طرف سے سفارش
مدت اور مستقل رہائش کا امکان
اس ریزیڈنسی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے اور اسے ایک بار مزید بڑھایا جا سکتا ہے اگر آپ تمام شرائط برقرار رکھیں۔
اگر کوئی فرد پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر 30 ماہ سعودی عرب میں رہتا ہے اور اہلیت برقرار رکھتا ہے تو وہ مستقل رہائش کے لیے بھی درخواست دے سکتا ہے۔
فیس
اس پروگرام کی درخواست فیس ایک بار ادا کی جاتی ہے جو 4,000 سعودی ریال ہے۔
گفٹڈ ریزیڈنسی: کھلاڑیوں، فنکاروں اور ثقافتی شخصیات کے لیے
یہ پروگرام ان افراد کے لیے ہے جنہوں نے کھیل، آرٹ یا ثقافت میں نمایاں مقام حاصل کیا ہو۔ سعودی وژن 2030 کے تحت ملک کھیل اور ثقافت کو ترقی دے رہا ہے اور عالمی ٹیلنٹ کو ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے۔
اس میں اولمپک ایتھلیٹس، معروف فلم ساز، فنکار، ڈیزائنرز، اور دیگر ثقافتی شخصیات شامل ہو سکتی ہیں۔
اہلیت کی کیٹیگریز
پہلی کیٹیگری (اعلیٰ سطح کا عالمی ٹیلنٹ)
بین الاقوامی سطح کے بڑے ایوارڈ یا اعزاز (جیسے اولمپک میڈل وغیرہ)
سعودی عرب میں رہائش کے اخراجات برداشت کرنے کی مالی صلاحیت
Ministry of Culture یا Ministry of Sports کی سفارش
دوسری کیٹیگری (قومی یا علاقائی سطح کا ٹیلنٹ)
وزارت ثقافت یا وزارت کھیل کے معیار پر پورا اترنا
مالی طور پر خود کفیل ہونا
متعلقہ وزارت کی سفارش
یہ کیٹیگری ان افراد کو بھی شامل کرتی ہے جنہیں عالمی ایوارڈ نہیں ملا مگر اپنے شعبے میں قومی یا علاقائی سطح پر پہچان حاصل ہے۔
مدت اور مستقل رہائش
یہ ریزیڈنسی بھی پانچ سال کے لیے ہوتی ہے اور ایک بار قابلِ تجدید ہے بشرطیکہ 30 ماہ کی رہائش اور دیگر شرائط پوری ہوں۔
مستقل رہائش کے لیے بھی یہی مدت اور منظوری ضروری ہوتی ہے ساتھ ہی متعلقہ وزارت کی توثیق بھی درکار ہوتی ہے۔
دونوں ریزیڈنسی کے مشترکہ فوائد
یہ دونوں پروگرام عام اقامہ کے مقابلے میں بہت زیادہ سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔
اہل خانہ کو ساتھ رکھنے کی اجازت (زوج/اہلیہ، 25 سال سے کم بچے، والدین)
بغیر اسپانسر کے رہائش
ملازمت تبدیل کرنے کی مکمل آزادی
سالانہ لیوی فیس سے استثنا
بار بار ویزا ری-انٹری کی ضرورت نہیں
ائیرپورٹس پر تیز رفتار امیگریشن لین
جائیداد خریدنے اور استعمال کرنے کا حق
کاروبار شروع کرنے اور سرمایہ کاری کی اجازت
رشتہ داروں کے لیے وزٹ ویزا اسپانسر کرنے کی سہولت
اہم شرائط اور نوٹس
اسپیشل ٹیلنٹ پروگرام میں پوائنٹس سسٹم استعمال ہوتا ہے جس میں تعلیم، تجربہ، تنخواہ اور تحقیق جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔
صرف وہی ادارے قابل قبول ہوتے ہیں جو منظور شدہ فہرست میں شامل ہوں۔
تمام شرائط وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں اس لیے درخواست سے پہلے تازہ معلومات چیک کرنا ضروری ہے۔
درخواست دینے کا طریقہ
درخواستیں Saudi Premium Residency Center کے ذریعے جمع کروائی جاتی ہیں جو Ministry of Interior کے تحت کام کرتا ہے۔
درخواست دینے کے لیے سرکاری پورٹل استعمال کیا جاتا ہے اور گفٹڈ ریزیڈنسی کے کیس میں متعلقہ وزارتوں سے سفارش بھی اسی مرکز کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔
سعودی عرب اب صرف ملازمت دینے والا ملک نہیں رہا بلکہ دنیا کے اعلیٰ ٹیلنٹ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسپیشل ٹیلنٹ اور گفٹڈ ریزیڈنسی دونوں پروگرام اس بات کی علامت ہیں کہ سعودی عرب ڈاکٹرز، محققین، کھلاڑیوں اور فنکاروں کو مستقل طور پر اپنے ملک کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
