معدنی وسائل کی بندربانٹ اور پشتونوں پر روزگار کے دروازے بند ، زمینوں کا الاٹمنٹ کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے — خوشحال خان کاکڑ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے اہتمام سے پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنما، پشتونخوا میپ کے سینئر ڈپٹی چیئرمین، ممتاز پارلیمنٹیرین اور نامور مؤرخ عبدالرحیم خان مندوخیل کی نویں برسی کے موقع پر جلسۂ عام کوئٹہ کے لیاقت پارک میں پارٹی چیئرمین اور قومی اسمبلی کے رکن خوشحال خان کاکڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ جلسے سے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ندا سنگر نے انجام دیے جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت مولوی فضل کریم نے حاصل کی۔
چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل کو ان کی عظیم قومی، سیاسی، ادبی اور صحافتی خدمات پر پشتون افغان غیور ملت اور تمام جمہوری قوتوں کی جانب سے زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدالرحیم خان مندوخیل نابغۂ روزگار شخصیت کے مالک اور بلند پایہ سیاسی و قومی رہنما تھے۔ ان کی خدمات صرف سیاست تک محدود نہیں تھیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ان کی خدمات تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ عبدالرحیم خان مندوخیل نے پشتون قومی سیاسی تحریک کو جدید دور کے علمی و سائنسی نظریات کی بنیاد پر منظم کرکے پشتون افغان قومی سیاست کی درست سمت کا تعین کیا۔ انہوں نے پشتونخوا وطن کی جمہوری قومی سیاسی قوتوں کو قومی وطنی پارٹی میں متحد و منظم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخوا میپ اور پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کے اتحاد پر مبنی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا قیام ان کا ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ مرحوم رہنما نے پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی محکوم قوموں کے اتحاد ’’پونم‘‘ کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کیا اور ملکی سطح پر ایم آر ڈی سمیت دیگر جمہوری محاذوں میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ ایک بلند پایہ پارلیمنٹیرین تھے اور انہوں نے محکوم قوموں اور ملک کے تمام عوام کے حق میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری میں قابلِ فخر کردار ادا کیا۔ ان کی تاریخی تصانیف اور ان کے تخلیق کردہ سیاسی، علمی اور نظریاتی لٹریچر قومی سیاسی تحریک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ پشتونخوا نیپ اور قومی تحریک ان کے افکار اور تعلیمات کو قومی نجات کی جدوجہد میں مشعلِ راہ بناتے ہوئے ان کے ارمانوں کی تکمیل کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں پشتون افغان ملت کو بدترین صورتِ حال کا سامنا ہے۔ استعماری ریاستی اداروں نے پشتونوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اختیارات سے محروم کرکے ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لا مسلط کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں تمام محکوم اقوام، بالخصوص پشتون، جبر و استحصال کا شکار ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران پشتونخوا وطن اور افغانستان پر بدترین دہشت گردی مسلط کی گئی، جس کے باعث پشتونخوا وطن کا کوئی شہر، گاؤں، مسجد، حجرہ، اسکول، ہسپتال یا کوئی طبقہ و پیشہ محفوظ نہیں رہا۔ ہمارے وطن میں روزگار کے تمام مواقع تباہ کیے گئے اور کروڑوں پشتونوں کو اپنے تاریخی علاقوں سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ افغانستان کی تباہی و بربادی کے بعد ڈیورنڈ لائن پر تمام تجارتی راستے بند کرکے پشتونوں کی معاشی قتلِ عام کا سلسلہ جاری رکھا گیا، حالانکہ دیگر اقوام کو تجارت کے تمام حقوق حاصل ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پشتونوں کو ملک کے دیگر صوبوں میں محنت مزدوری اور جائز کاروبار کرنے کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان پر مقدس دین اسلام کے نام پر طالبان کا افغان دشمن رجیم مسلط کیا گیا، جسے تمام افغان عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ ہم نے افغانستان میں مداخلت اور جارحیت پر مبنی ہر استعماری پالیسی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ استعمار نے کل جنہیں مجاہد بنایا تھا، آج دہشت گردی کے نام پر افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ہمارے حکمران ریاست کے خلاف جنگ کو اسلام مخالف قرار دیتے ہیں، جبکہ افغانستان کی ریاست کے خلاف ہر جارحیت کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے قومی جذبے کے تحت امریکہ جیسی سپر پاور کو اپنی قومی طاقت سے ناکام بنایا۔ ایران کی ریاستی صلاحیت اور میزائل ٹیکنالوجی نے ملک کا دفاع کیا، جبکہ افغانستان میں قومی اداروں اور قومی افواج کو ختم کرکے افغان عوام کو بے بس قوم بنا دیا گیا۔ افغانستان کی ملی استقلال، ملی حاکمیت اور سلامتی کے دفاع کے لیے ضروری ہے کہ طالبان رجیم افغانستان میں لویہ جرگہ کے ذریعے تمام ریاستی اداروں کو بحال کرکے افغان عوام کی نمائندہ جمہوری حکومت قائم کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغان کڈوال عوام کے خلاف ملکی اور عالمی قوانین کے برخلاف بدترین غیر انسانی سلوک جاری ہے اور پشتونخوا وطن کے تمام عوام کو افغان کڈوال تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ہر پشتون کے لیے روزگار کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ ملک میں پشتون ٹرانسپورٹروں کے خلاف جابرانہ اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جن تجارتی اشیا کی اسمگلنگ کے نام پر کروڑوں روپے مالیت کے ٹرک اور بسیں ضبط کی گئی ہیں، انہی اشیا کی تجارت کا حق سندھ اور پنجاب کو حاصل ہے۔ پشتون ہر قسم کے تجارتی سامان پر ٹیکس ادا کرنے کے باوجود تجارت کی اجازت نہیں رکھتے، جبکہ دیگر اقوام کو بغیر ٹیکس تجارت کی سہولت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے معدنیات سے مالا مال پہاڑوں اور زرخیز زمینوں پر مشتمل ہزاروں مربع میل علاقوں کو غیروں کے نام الاٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پشتون دشمن اقدام کا کوئی قانونی اور آئینی جواز موجود نہیں۔ پشتونخوا نیپ اپنے محبوب وطن کے قدرتی وسائل کی اس غیر قانونی الاٹمنٹ پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ اس سلسلے میں عید کے چوتھے روز برشور میں عوام کا ایک نمائندہ جلسۂ عام منعقد ہوگا، جس کے بعد صوبے کی تمام جمہوری سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے آئندہ کے لائحۂ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert