بلوچستان میں امن و امان کے دعوے دھرے کے دھرے، علماء کے قاتل آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں — مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع اراکین اسمبلی اصغر علی ترین میر زابد ریکی اور سابق صوبائی وزیر حاجی محمد نواز خان کاکڑ نے کہا کہ علماء اور عوام کی تحفظ کی بجائے ادارے اپنے تحفظ کی فکر میں ہے اسلام کے نام پر بنا ہوا ملک میں سینکڑوں علماء نے جام شہادت نوش کرلیا لیکن آج تک علماء کی قاتل گرفتار نہ ہوئے۔ ملک علماء کا مقتل بن چکا ہے حکومت کی کارکرگی صرف مذمتی بیان تک رہ چکی ہے لیکن ان سانحات کے پیچھے’’ماسٹر مائنڈ‘‘ آج تک ظاھر نہیں کی کہ اس ملک میں علماء کی قاتل کون ہے حکومت صرف مذمت سے بری الذمہ تو نہیں ہوسکتی ہے امن وامان کے لیے کھربوں روپے مختص ہونے کی باوجود دہشتگردی کا سدباب نہیں ہوسکتا ہے تو پھر ملک میں ایک درجن سے زائد اداروں کی زمہ داری کی کیا زمہ داری بنتی ہے جب تک حکومت کی طرف سے قاتلوں کی گرفتاری کی سنجیدہ کوششیں اور علماء کی مظلومانہ شہادت کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات نہ کیا جائے اس وقت تک قومی اور صوبائی حکومتیں ان علماء کے قتل کی ذمہ دار ہیں۔ حکومت فوری طور پر قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائے ملک میں ایک منظم سازش کے تحت مسلسل سیاسی دینی علمی قیادت کو نشانہ بنایا جارہا ہے آخر اس کا زمہ دار کون ہے ارباب اقتدار کے مذمتی بیان یا اسے محض کسی تنظیم کی کارستانی قرار دینے سے تو بری الذمہ تو نہیں ہو سکتے ہیں حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہے تو پھر اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے مستعفی ہو جائے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے خلاف سازشیں کرنے والوں کی نام ونشان تک مٹ چکے۔ لیکن مدارس آج تک قائم ودائم ہے اور مدارس کی کی نصاب ان کو معلوم بھی نہیں۔ اور حکومت مدارس کی نصاب کا پوچھا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت مدارس کے خلاف ناروا اقدامات سے باز نہ آیا تو سروں پر کفن باندھ کر سڑکوں پر دمادم مست قلندر ہوگا۔ مدارس اور علماء لاوارث نہیں۔ مدارس کو بند کرنے سے پہلے ماضی کی تاریخ کو دیکھیں کہ ان کو پاکستان میں قبر کی جگہ نہیں ملی لیکن مدارس آج تک قائم دائم ہے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنظیمات مدارس کے تحت دینی مدارس نے پہلے بھی رجسٹریشن سمیت دیگر قانونی تقاضے کو پورے کیے ہیں ہر حکومت آتے ہی دینی مدارس کے رجسٹریشن اور فنڈنگ کے طریقہ کار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں مسلسل منفی پراپیگنڈوں سیرجسٹریشن کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں، اور ملک میں درجنوں مغربی این جی آوز کام کررہے ہیں لیکن ان کی رجسٹریشن اور فنڈنگ پر کوئی انگلی اٹھانے والا نہیں۔ حالانکہ دینی مدارس اور علماء ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں مدارس کی اختیار سلب کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سامراجی قوتوں کی ایمائ پر دینی مدارس کی خودمختاری و آزادی کو سلب کیا جارہا ہے رجسٹریشن میں رکاوٹیں مدارس پر گھیرا تنگ کرنے کی عزائم رکھتی ہے جمعیت نظریاتی دینی مدارس کیازادی خودمختاری پرکوء انچ انینھیں دینگے زرخرید ملاؤں کی کھیپ کا مقصد دینی مدارس کے ڈھانچہ کو تبدیل اور حکومت کی زیر نگرانی لانا چاہتے ہیں لیکن تنظیمات المدارس اور خاص کر وفاق المدارس ایسے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگی حکمران دینی مدارس کے خلاف معرکہ آرائی کو ملک وملت کی سب سے بڑی خدمت تصور کرتا ہے۔ مدارس کے خلاف مسلسل پروپیگنڈے کر رہے ہیں ایک طرف دعوی کررہے ہیں کہ علماء نے اپنے آپ کو دین اسلام کا جاگیر بنایا ہے اور دوسرے طرف دعوی کر رہے ہیں کہ ملک کو مدارستان بنا دیا ہے۔حکومت اپنی ناکام پالیسیوں کاملبہ مدارس پر ڈالا جارہا ہے۔ علماء نے ملک کو مدراستان ہے تو آج تک اپنا بوجھ حکومت پر نہیں ڈالی گئی ہے اور نہ کھبی حکومت سے امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ مدارس کو مورد الزام ٹہڑنے کی بجائے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے دینی مدارس نے لاکھوں بچوں کی کفالت اور تعلیم وتربیت کی زمہ دری اٹھا کر رکھی ہے۔ مدارس اسلامیہ کے علماء ملک و معاشرہ کی اصلاح اور امن وامان کے بحالی میں کردار ادا کیا ہے ۔
