پٹرول 300 روپے فی لیٹر ؟سینیٹر دنیش کمار نے حکومت کو تجویز پیش کر دی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) سینیٹ اجلاس میں ایندھن کی قیمتوں اور بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں سے متعلق ایک اہم اور متنازعہ تجویز سامنے آگئی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کو ایران سے پیٹرول (Petrol)لا کر فروخت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس کے دوران سینیٹر دنیش کمار نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اگر سرحدی تجارت کے تحت ایران سے پیٹرول لانے اور فروخت کرنے کی باقاعدہ اجازت دی جائے تو اس سے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک میں مہنگے ایندھن کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مجوزہ نظام کے تحت ایران سے لایا گیا پیٹرول قانونی دائرہ کار میں فروخت کیا جائے تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 300 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے، جو موجودہ نرخوں کے مقابلے میں ایک بڑا ریلیف ہوگا۔
سینیٹر دنیش کمار نے مزید کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف عوام کو سستا ایندھن میسر آئے گا بلکہ ملک سے زرمبادلہ (ڈالرز) کے اخراج میں بھی کمی ممکن ہوگی، جو موجودہ معاشی صورتحال میں ایک اہم فائدہ ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں پہلے ہی غیر رسمی تجارت کا رجحان موجود ہے، اگر اسے منظم اور قانونی شکل دے دی جائے تو یہ ایک مستحکم معاشی ماڈل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی سے مقامی آبادی کو باقاعدہ کاروباری مواقع ملیں گے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت اس تجویز پر غور کرے تو اس کے مثبت اثرات صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے صارفین بھی نسبتاً سستا ایندھن حاصل کر سکیں گے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی تجاویز پر عمل درآمد سے قبل قانونی، سکیورٹی اور بین الاقوامی تجارتی پالیسیوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا، کیونکہ سرحدی ایندھن تجارت کے معاملے میں مختلف ریگولیٹری چیلنجز بھی موجود ہیں۔

WhatsApp
Get Alert