بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بے پناہ کرپشن ہے، پنجاب کی حد تک ڈیٹا ٹھیک نہیں

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وفاقی مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بے پناہ کرپشن ہے، پنجاب کی حد تک ڈیٹا ٹھیک نہیں ،بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری بنانے والی بات ہے، 3 ماہ بعد اگر کسی کو 13 یا 17 ہزار دیں تواس کا کیا بنتا ہے؟اس سے غربت ختم نہیں ہوئی بلکہ غربت بڑھی ہے۔
انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب ارکان اسمبلی اور اتحادی جماعتیں حکومت سے گلے شکوے کرتے ہیں ۔ کسی کو ضلع کسی کو حلقے کی فکر ہوتی ہے، گلے شکوے جب ہوتے ہیں تو بعض اوقات جذبات میں سخت باتیں بھی ہوجاتی ہیں، بجٹ سے پہلے سارے معاملے کو سیٹل کیا جائے گا، حکومت اتحادی جماعتوں اور باقی معزز ممبران کے مطالبے کو حکومت بہتر انداز میں مینج کرے گی ۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ گردشی قرضوں کا حجم ہر سال بڑھتا جارہا ہے، اسی طرح دفاعی اخراجات بھی ہیں ، کیونکہ پاکستان خطے میں پورے طاقت عزت کے ساتھ کھڑا ہے۔
18ویں ترمیم جہاں صوبوں کو اختیارات دیتی ہے وہاں ذمہ داریاں بھی ہیں ۔ اگر بی آئی ایس پی کے ذریعے غرباء کی مدد کی جاتی ہے لیکن ہمارے اس پر اعتراضات ہیں ہم سمجھتے ہیں ، اگر میں پنجاب کی حد تک بات کروں تو اس کا ڈیٹا ٹھیک نہیں ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بے پناہ کرپشن ہے، پنجاب کی حد تک ڈیٹا ٹھیک نہیں ،بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری بنانے والی بات ہے، 3 ماہ بعد اگرکسی کو 13یا 17ہزار دیں تواس کا کیا بنتا ہے؟اس سے غربت ختم نہیں ہوئی بلکہ غربت بڑھی ہے۔اس سے بہتر ہنرمند اسکیم کی طرف جانا چاہیئے۔
