پاکستان میں ہوا یہ ہے کہ گورا انگریز چلا گیا اور کالا انگریز یہاں چھوڑ گیا

لاہور (قدرت روزنامہ) سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان میں ہوا یہ ہے کہ گورا انگریز چلا گیا اور کالا انگریز یہاں چھوڑ گیا، ہر وزیراعظم یہودی انڈین ایجنٹ بنا، عوام نے پھر بھی انہی کو ووٹ دیا جو جیل گیا۔ یوایم ٹی میں منعقدہ مکالمے میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں کو آئین کی حکمرانی تسلیم کرنی چاہیے۔
غیر جانبدار الیکشن کمیشن اور موٴثر انتخابی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں تاکہ عام آدمی بھی سیاسی عمل میں آگے آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام کی ری اسٹرکچرنگ، صوبائی فنانس کمیشنز کے قیام، طلبہ یونینز کی بحالی اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات و مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کو تقسیم کیا جاتا ہے تو دیگر صوبوں میں بھی انتظامی تقسیم پر غور ہونا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گورا انگریز چلا گیا کالا انگریز چھوڑ گیا، ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ چھوٹے صوبے بن گئے تو امرت دھارا، آب حیاب بہے گا، حکمران طبقات میں عجیب کشمکش ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم لے کر آئیں، میں ذاتی طور پر چھوٹے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کا حامی ہوں لیکن اصل مسئلہ نیت کا فتور ہے، نیت ٹھیک ہوگی تو چیزیں بھی ٹھیک ہوں گی،یہاں پر تو اختیارات کے ارتکاز کا شوق ہی ختم نہیں ہورہا،اس میں سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ سب نے حصہ ڈالا ہے، نظریہ ضرورت والی عدلیہ اور سول بیوروکریسی نے حصہ ڈالا ہے، دائرے کا یہ سفر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، ہم اپنے مخالف سے انتقام لینا لازم سمجھتے ہیں، کوئی ایسا وزیراعظم نہیں جو عزت سے رخصت ہوا ہو، شاہد خاقان عزت سے رخصت ہوئے لیکن جیل میں ڈال دیا گیا۔
ہر وزیراعظم یہاں یہودی اور انڈین ایجنٹ بنا، مزے کی بات عوام نے ہر اس کو ووٹ دیا جو جیل میں گیا۔ لیکن جیل میں ڈالنے والوں کو سمجھ نہیں آئی وہ اسی کام پر لگے ہوئے ہیں، پہلے فیصلہ کریں کہ آئین کا احترام کرنا ہے یا تجاوزات میں اضافہ کرنا ہے، 1973 کا آئین تجاوزات سے بھر گیا ہے۔ اس میں لائف ٹائم استثنا دے دی گئی ہے، دنیا میں کہیں ایسے ہوتا ہے؟ ہم نیوکلیئر اسٹیٹ ہیں، لیکن حرکتیں بنانا اسٹیٹ والی ہیں۔
