آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، محمود خان اچکزئی

ہمارا خطہ خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، غلط فیصلوں سے خطہ میدانِ جنگ بن سکتا ہے، ہائیکورٹ بار سے خطاب


تحریک تحفظ آئین پاکستان ایجنسیوں کی مدد کے بغیر بننے والی واحد تحریک ہے، محمود خان اچکزئی
عمران خان ملک کے سب سے پاپولر لیڈر ہیں، ملاقاتوں پر پابندیاں ختم کی جائیں، محمود اچکزئی
افغانستان کے معاملے پر ہمسایہ ممالک کا اجلاس بلایا جائے، محمود خان اچکزئی
پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی کو اپنے وسائل پر آئینی حق دیا جائے، محمود اچکزئی
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور تمام اداروں کو آئینی فریم ورک کا پابند بنانے میں ہے۔
انہوں نے یہ بات ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا خطہ انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، ایران اور ہرمز کے معاملے سمیت خطے میں کشیدگی موجود ہے، اس لیے حکمرانوں کے عقل و دانش کا امتحان ہے۔ اگر غلطیاں کی گئیں تو عالمی طاقتیں ہمارے خطے کو میدان جنگ بنا سکتی ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کوئی بھی مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک سچ اور انصاف کو تسلیم نہ کیا جائے۔ ان کے بقول پاکستان کی بنیادوں میں کرپشن داخل کی گئی اور یہی ملک کے بحرانوں کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر آئین کو پامال کرنے والوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، حالانکہ آئین واضح کرتا ہے کہ جو آئین کو چھیڑتا ہے وہ غدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد جب آئین اور اداروں پر حملے ہو رہے تھے تو تحریک تحفظ آئین پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ ان کے مطابق یہ واحد تحریک ہے جو ایجنسیوں کی مدد کے بغیر بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان حالات میں کوئی بھی شریف پاکستانی خاموش رہا تو تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دفاتر میں جاسوسی اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی شکایات ملک کے لیے خطرناک ہیں۔ بے انصافی سے ملک نہیں چلائے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم آئین، پارلیمنٹ اور عوامی حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات میں تحریک انصاف سے انتخابی نشان عدالت کے ذریعے چھین لیا گیا، جس کی مثال نہیں ملتی، بعد ازاں اسمبلیوں کی بولیاں لگائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے خرچ کرنے والے اسمبلیوں میں پہنچ گئے، کیا اسمبلیاں ایسے بنتی ہیں؟
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کو چلانے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو، داخلہ اور خارجہ پالیسیاں پارلیمنٹ میں تشکیل دی جائیں، اور پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی عوام کو اپنے ساحل و وسائل پر آئینی حق تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب اقوام کو ان کے وسائل پر حق دیا جائے گا تو پاکستان ایک بہترین ملک بن سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ افواج کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور ایجنسیاں آئین کے فریم ورک میں رہ کر اپنا کام کریں تو وہ قابل احترام ہیں، مگر سیاسی جماعتوں اور عوامی تحریکوں کے معاملات میں مداخلت ان کا کام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارہ اپنے آئینی کردار تک محدود رہے تو ملک مضبوط ہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ گزشتہ دنوں چمن جلسے میں انہوں نے بلوچ بھائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سڑکوں پر لوگوں کو مارا جاتا ہے، گاڑیاں جلائی جاتی ہیں اور یہ سب کچھ بعض تنظیموں کے نام پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست، حکومت، پولیس اور متعلقہ ادارے عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نہیں لیتے تو پھر عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتہائی اہم اجلاسوں میں لوگوں کو اپنے علاقوں میں قبائلی لشکر بنانے کا کہا جا رہا ہے، یہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پشتونخوامیپ کسی ادارے کو ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے نہیں دے گی۔ انہوں نے وکلاء اور ججز سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں خاموش رہنا گناہ کے مترادف ہے۔
محمود خان اچکزئی نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پر کسی کو برا بھلا نہ کہیں، مخالفین کو طعنے نہ دیں اور سیاسی اختلاف کو شائستگی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان پورے ملک کی تحریک ہے، جو بھی آئین، پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی چاہتا ہے اسے اس جدوجہد میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کا اجلاس اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی موجودگی میں بلانا چاہیے اور مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان کے خلاف کسی مہم جوئی کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کو غیر مستحکم کرنا پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان ملک کے سب سے پاپولر لیڈر ہیں، ان پر ملاقاتوں کی پابندیاں ختم کی جائیں اور ان کی بہنوں، بچوں اور سیاسی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فریقین کے درمیان بات نہیں بن رہی تو ہم بات چیت میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، مگر مار دھاڑ سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملازمتیں فروخت ہونے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں اور عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرپشن، ناانصافی اور ادارہ جاتی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے، جمہوری پاکستان تشکیل دیا جائے اور پارلیمنٹ کو حقیقی طاقت کا سرچشمہ بنایا جائے۔
قبل ازیں محمود خان اچکزئی ہائیکورٹ پہنچے جہاں پشتونخوا لائرز فورم کے وکلاء نے 29 مئی چمن جلسہ عام کے بعد ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو غیر آئینی، غیر قانونی، جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کے لیے کیس دائر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ہائیکورٹ بار سے خطاب کیا۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی اپنی تشکیل سے لے کر آج تک جمہوری، سامراج دشمن اور جاگیرداری مخالف سیاسی جدوجہد کی حامل جماعت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون اور بلوچ قیادت نے ہمیشہ اپنے وطن پر عوام کے حق ملکیت، حق حاکمیت اور حق اقتدار کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے سب کو توبہ کرنی ہوگی، آئین کی طرف واپس آنا ہوگا، جمہوری پاکستان بنانا ہوگا اور تمام اقوام کو ان کے وطن، وسائل اور سیاسی حقوق کا مالک تسلیم کرنا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert