اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب مصراور ترکیہ کے وزرائے خارجہ پر مشتمل ’ریجنل۔4 ‘ کے چوتھے مشاورتی اجلاس میں امریکا ایران تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘کو خطے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
قاہرہ میں منعقدہ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں علاقائی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور فلسطین کے دیرینہ تنازع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم
اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں چاروں ممالک نے 18 جون 2026 کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس پیش رفت کو علاقائی تناؤ میں کمی اور عالمی سپلائی چین کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ اعلامیے میں اس تاریخی معاہدے کو ممکن بنانے میں پاکستان کے کلیدی کردار اور قطر کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا گیا ہے۔
خلیجی ممالک کے تحفظات کا احترام
مشترکہ اعلامیے میں ریجنل۔4 کے وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اس مفاہمت کے ثمرات تبھی پائیدار ہوں گے جب طے شدہ وعدوں پر دیانتداری سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

اجلاس میں اس بات کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں خطے کے ممالک، بالخصوص خلیجی عرب ریاستوں کے سیکیورٹی خدشات کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
فلسطین، امن کا ناگزیر محور
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی اس پیش رفت کے ساتھ ساتھ، اجلاس میں مسئلہ فلسطین کی مرکزیت کو پھر سے اجاگر کیا گیا۔
چاروں ممالک نے مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کے ساتھ 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے انصاف کے لیے متحدہ آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔
آخر میں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن، خوشحالی اور سلامتی کے فروغ کے لیے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے وژن کی تائید کرتے ہوئے اسے مستقبل کی سفارت کاری کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

WhatsApp
Get Alert