ایک کھرب 31 ارب روپے کے خرچ کا ترقیاتی بجٹ میں ذکر نہیں، 40 ارب روپے غیر آئینی، غیر قانونی اور بجٹ مینول کیخلاف رکھے گئے، رحیم زیارتوال


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے صوبے کی صوبائی سرپلس بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی بجٹ پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 43ارب کم کرنے، 45ارب سرپلس ظاہر کرنے، ان کے استعمال اور منصوبہ بندی کی منظوری نہ ہونے اور ساتھ ہی ترقیاتی وغیر ترقیاتی بجٹ ملا کر بجٹ کے اصل حجم کے درمیان 86ارب روپے کے فرق کا بھی بجٹ میں استعمال کرنے کا کوئی منصوبہ اور منظوری نہیں ہے گو کہ1 کھرب 31ارب روپے کے خرچ کا ترقیاتی بجٹ میں ذکر نہیں۔
اسی طرح بلوچستان خصوصی ترقیاتی ترجیحات کے نام سے 40ارب روپے غیر آئینی،غیر قانونی اور بجٹ مینول کے خلاف رکھے گئے ہیں۔ جو واضح طو رپر سرکاری ملازمین کے ذریعے حقیقی سیاسی جمہوری پارٹیوں کے خلاف استعمال ہوگی۔ اس طرح کی غیر آئینی،غیر قانونی عوام دشمن بجٹ کو صوبے کا کوئی بھی باضمیر سیاسی کارکن قبول نہیں کرسکتا اور انہیں کھلی طور پر مسترد کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل سیکٹر اور پیداواری سیکٹرز میں غیر ترقیاتی بجٹ (تنخواہوں) اور ترقیاتی بجٹ کو ملا کر ظاہر کرنا اور یہ کہنا کہ مالی سال 2026میں مختلف محکمہ جات کے لیے اتنا بجٹ مختص کیا گیا ہے جو کہ ایک کھلی دھوکہ دہی کے سواکچھ نہیں۔ پیداواری مدات جس میں (زراعت، صنعت، لائیوسٹاک، جنگلات، معدنیات، فشریریز، آئی ٹی) ودیگر ترقیاتی بجٹ کا تقریباً تین یا چار فیصد سے زیادہ نہیں اور یہی صورتحال تعلیم اور صحت کی ہے، اور صوبہ تعلیمی میدان میں شاید ساری دنیا سے پیچھے تقریباً 45فیصد سے زیادہ تعلیمی ریشو ہے۔ اور ہمارے لاکھوں بچے اصول تعلیم سے محروم ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بھر جوکہ پانی کی کم یابی ایرڈ زون کے طور پر اعلان شدہ ہے اور صوبے کا کل سیلابی اوسط سالانہ سیلابی پانی 12ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اور اب تک بمشکل 1کرورڑ 20لاکھ ایکڑ فٹ پانی سے تقریباً کوئی 20لاکھ پانی کے ذخیرے بن چکے ہیں اور تقریباً 1کرورڑ ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہوجاتا ہے لیکن محکمہ ایریگیشن کا کوئی خاطر خواہ منصوبہ بجٹ میں ریفلیکٹ نہیں ہے۔ اس طرح صوبے کے سوشل سیکٹر کے اہم ترین محکموں تعلیم اور صحت کی طرح ایریگیشن کی نظر اندازی صوبے کے باسیوں کی مستقبل سے کھیلنے اور پانی کی کم یابی کے نتیجے میں دوردراز اضلاع کے لوگ نقل مکانی پر مجبور کرنے کی دانستہ کوشش ہے جس کی جتنی بھی مخالفت کی جائے وہ کم ہوگی، اور اب بھی وقت ہے کہ پانی اسٹوریج کے انتظام کو از سر نو غور کرنا چاہیے اور نظر اندازی کا خاتمہ کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا ذکر شدہ سخت ترین خلاف ورزیوں کی طرح آنے والے دنوں میں اس طرح کی بہت سی خلاف ورزیاں صوبے کے عوام کے سامنے آجائینگی۔ اور آخر کار فارم 47کے زروزور کے مسلط نمائندے یہ برملا اظہار کررہے ہیں کہ بجٹ عوامی نمائندوں کی تشکیل کردہ نہیں ہے۔ بجٹ پر جاری بحث اور ا±س میں سرپلس بجٹ جس کی نشاندہی کی گئی ہے کو ترقیاتی سوشل مدات میں خرچ کرنے کی تجویز کرے ہیں۔ بصورت دیگر پارٹی سیاسی جمہوری اور عدالتی راستہ اختیار کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔
write English news With headline

WhatsApp
Get Alert