ترازو مانگا تو جیل ملی، حق مانگا تو ہتھکڑی!

شرقپور شریف (قدرت روزنامہ) شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور شریف کے ایک غریب اور معذور بزرگ بابا صدیق کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے درج کیا گیا مبینہ جھوٹا مقدمہ بالآخر ختم کر دیا گیا، عدالت نے بزرگ کو مقدمے سے ڈسچارج کرکے ان کی ضمانت منظور کرلی، مبینہ طور پر بابا صدیق کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف ایک صحافی کے سامنے سچ بولنے کی جرات کی تھی۔
صحافی محمد عمیر کے مطابق شرقپور شریف کے رہائشی بابا صدیق ایک بازو سے معذور ہیں، جو اس کڑی دھوپ اور مہنگائی کے دور میں ریڑھی پر پھل بیچ کر اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، چند روز قبل ضلعی انتظامیہ نے مبینہ تجاوزات مہم کے تحت کاروائی کرتے ہوئے بابا صدیق کی ریڑھی پر موجود پھل اور ان کا وزن کرنے والا کنڈا یعنی ترازو زبردستی ضبط کرلیا تھا۔
بابے صدیق کی ضمانت ہوگئی
شیخوپورہ، شرق پور شریف کا رہائشی بابا صدیق ایک بازو سے معذور ہے اور ریڑھی لگا کر اپنا گزر بسر کرتا ہے، چند روز قبل اسکی ریڑھی پر لگا پھل اور کنڈا انتظامیہ نے ضبط کرلیا۔ بابا جی کسی صحافی کو ویڈیو بیان دے بیٹھے جس کے بعد بابا جی کو سامان واپسی کے نام پر… pic.twitter.com/7KILF4DTTY
— Muhammad Umair (@MohUmair87) July 1, 2026
بتایا گیا ہے کہ روزی روٹی چھن جانے کے بعد مجبور بابا صدیق نے ایک مقامی صحافی کو ویڈیو بیان دیا، جس میں انہوں نے انتظامیہ کے اس ظلم پر بات کی، یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو حکام سیخ پا ہو گئے، پولیس اور انتظامیہ نے بابا صدیق کو لالچ دیا کہ وہ تھانے آ کر اپنا ضبط شدہ سامان واپس لے جائیں، لیکن جیسے ہی وہ معذور بزرگ تھانے پہنچے تو پولیس نے سامان دینے کی بجائے ان پر جھوٹا مقدمہ درج کرکے انہیں حوالات میں بند کردیا۔
بتایا جارہا ہے کہ ایک معذور اور ضعیف بزرگ کو ہتھکڑی لگا کر تھانہ کچہری لایا گیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی شدید تذلیل کی، تاہم یہ معاملہ جب عدالت کے سامنے پہنچا اور عوامی سطح پر اس ظلم کے خلاف احتجاج ہوا، تو عدالت نے پولیس کی کہانی کو مسترد کرتے ہوئے بابا صدیق کو مقدمے سے ڈسچارج کیا اور ان کی فوری رہائی کا حکم جاری کردیا۔
