بلوچستان میں فائرنگ، مسلح حملے اور ٹریفک حادثات، 10 افراد جاں بحق، 17 زخمی

ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کی فائرنگ، مقامی رہائشی جاں بحق، 5 افراد زخمی، علاقے میں کشیدگی قلعہ عبداللہ اور ڈیرہ بگٹی میں 8 افراد جاں بحق، بلیدہ میں ایک شخص قتل، چھتر میں 4 افراد زخمی کچھی میں مسافر ویگن کھائی میں جاگری، ایک خاتون سمیت 6 مسافر زخمی، پشین سے مغوی بچہ بازیاب


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ، مسلح حملے، جرائم اور ٹریفک حادثات کے واقعات میں 10 افراد جاں بحق جبکہ 17 زخمی ہوگئے، پولیس اور متعلقہ اداروں نے مختلف واقعات کی تحقیقات شروع کردیں۔
کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کی فائرنگ سے مقامی رہائشی نقیب اللہ جاں بحق جبکہ کم از کم پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں اتوار کی شام مسلح حملے کے بعد شدید کشیدگی پیدا ہوگئی اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں سرکاری سطح پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے میں کئی گھنٹے تک جھڑپیں جاری رہیں اور شہری اپنی مدد آپ کے تحت علاقے کا دفاع کرتے رہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق واقعے کے باعث خواتین، بچوں اور بزرگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متعلقہ حکام کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
سینیٹر منظور کاکڑ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہنہ اوڑک میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے، مگر حکومت غائب اور عوام دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ انہوں نے متاثرہ علاقے میں فوری طور پر سکیورٹی فورسز تعینات کرنے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور حملے میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ہنہ اوڑک کے واقعے سے متعلق سرکاری حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ حملہ آوروں کی تعداد اور نقصانات کی مکمل تفصیلات بھی سرکاری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ واقعے سے متعلق معلومات مقامی ذرائع، عینی شاہدین اور سینیٹر منظور کاکڑ کے بیان پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
پولیس کے مطابق قلعہ عبداللہ کے علاقے بدوان میں اتوار کی علی الصبح نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں عبیداللہ ولد فضل محمد، ضیاء الرحمن ولد عبدالبشیر، ایمل ولد رحیم اور محمد شاہد ولد رحیم جاں بحق جبکہ کمسن بچی بی بی ثانیہ دختر نصیر احمد زخمی ہوگئی۔ زخمی بچی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ واقعے کے خلاف ورثاء نے کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ پر دھرنا دیا، تاہم انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد شاہراہ آمدورفت کے لیے کھول دی گئی۔
ڈیرہ بگٹی کے علاقے زین کوہ درینجن میں لین دین کے تنازع پر دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چار افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔ جاں بحق افراد میں ایک جانب سے باپ بیٹا اور دوسری جانب دو سگے بھائی شامل ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔
بلیدہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے سہیل ابراہیم نامی شخص کو قتل کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد میت ورثاء کے حوالے کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔
ڈیرہ مراد جمالی کے قریب چھتر پولیس تھانے کی حدود شیرانی میں زمین کے تنازع پر دو گروہوں کے درمیان فائرنگ سے مقامی قبائلی شخصیت موج علی سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی منتقل کردیا گیا جبکہ پولیس نے علاقے میں پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا۔
دکی میں زیر تعمیر دکی تا چمالنگ روڈ پر نامعلوم افراد نے ٹھیکیدار کے موٹر گریڈر کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا، تاہم ڈرائیور محفوظ رہا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
کچھی قومی شاہراہ پر ڈمبولی کے مقام پر جیکب آباد سے کوئٹہ جانے والی مسافر ویگن تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہوکر کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت چھ مسافر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو بختیارآباد سول ہسپتال منتقل کرنے کے بعد مزید علاج کے لیے سبی بھیج دیا گیا۔ پولیس نے ڈرائیور کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پشین کے علاقے یارو میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اغوا ہونے والے کمسن بچے کو سملی کے علاقے سے بحفاظت بازیاب کرالیا۔ پولیس کے پہنچنے سے قبل اغوا کار فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ قانونی کارروائی کے بعد بچے کو اس کے والد کے حوالے کردیا گیا۔
خضدار میں صدر تھانہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروشی کے الزام میں سعید عرف چمپا کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے چرس برآمد کرلی اور مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ ایک دوسری کارروائی میں سوشل میڈیا پر ذہنی معذور نوجوان سے بدسلوکی کرنے والے نوجوانوں کو بھی گرفتار کرکے حوالات منتقل کردیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert