اختر مینگل اور اچکزئی نے آج تک پنجابیوں کی شہادت پر ایک لفظ نہیں بولا گیا
بدقسمتی ہے کہ پی ٹی آئی کا اُس تحفظ آئین سے اتحاد ہے، جس کی لیڈرشپ علیحدگی پسندوں کے ساتھ کھڑی ہے، فواد چودھری

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سیاسی رہنماء فواد چودھری نے کہا ہے کہ اختر مینگل اور اچکزئی نے آج تک پنجابیوں کی شہادت پر ایک لفظ نہیں بولا گیا، بدقسمتی پی ٹی آئی کا اس تحفظ آئین سے اتحاد بنایا گیا، جس لیڈرشپ علیحدگی پسندوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج عمران خان کی رہائی کی بات دور اب خاندان یہی اپیلیں کررہا کہ ان کی ڈاکٹرز سے ملاقات ہوجائے۔
موجودہ پی ٹی آئی قیادت کی مصیبت یہ ہے کہ خود بھی کچھ نہیں کرتے ، ہمیں بھی کچھ نہیں کرنے دیتے،اس ہفتے کچھ اچھی خبریں آئیں گی۔ جن لوگوں نے قربانیاں دیں، جیلوں میں گئے ان کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ تحفظ آئین جیسی پارٹی سے اتحاد بنایا گیا، آج تک اختر مینگل اور اچکزئی کی طرف سے پنجابیوں کی شہادت پر ایک لفظ نہیں بولا گیا، لیکن وفاق کی جماعت پی ٹی آئی کا ان کے ساتھ اتحاد کردیا گیا، جن کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
فواد چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے زوال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قربانیاں دینے والوں کو نظر انداز کرکے ایسی قیادت امپورٹ کی گئی جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی میں جو بزدار ماڈل لگایا ہے، اس کا پارٹی کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے، آج عمران خان کی جیل سے رہائی کی بات کہیں پیچھے رہ گئی ہے اور اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان کا خاندان بھی صرف یہی اپیلیں کرتا پھر رہا ہے کہ ان کی کسی طرح ڈاکٹر سے ملاقات کروا دی جائے یا ان کا علاج کروا دیا جائے، یہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کی بہت بڑی تنزلی ہے۔
سابق وزیر نے الزام لگایا کہ اس تنزلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے سختیاں جھیلیں، جیلوں میں گئے اور قربانیاں دیں، ان مخلص لوگوں کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا، مخلص رہنماؤں کو پیچھے دھکیل کر پی ٹی آئی میں ایک ایسی قیادت امپورٹ کی گئی ہے جن کا ماضی میں تحریک انصاف کے نظریئے سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں تھا، تحریک تحفظ آئین جیسی پارٹی سے اتحاد بنایا گیا جس کی اصل لیڈرشپ علیحدگی پسندوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کے سیاسی اتحادیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پنجابیوں کی شہادتوں پر آج تک نہ تو محمود خان اچکزئی اور نہ ہی اختر مینگل کی طرف سے ایک لفظ بھی مذمت کا کہا گیا ہے، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ تحریک انصاف جیسی بڑی وفاقی جماعت کی قیادت اب ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہے، جن کے وفاقِ پاکستان کے بارے میں منفی خیالات اور نظریات کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
