سانحہ زیارت: مسلح جتھوں کی سرکاری سرپرستی ختم کی جائے؛ عارفہ صدیق ایڈووکیٹ کا دھرنے سے خطاب


کوئٹہ(ڈیلی قدرت)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی صوبائی سیکرٹری برائے خواتین و انسانی حقوق اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی عارفہ صدیق ایڈووکیٹ نے کوئلہ پھاٹک پر سانحہ زیارت کے شہداء کی یاد میں جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مسلح جتھوں کی سرکاری سرپرستی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کو سینکڑوں وکلاء کے ہمراہ دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے عارفہ صدیق نے شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہداء کے لواحقین کا غم ناقابلِ بیان ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کوئٹہ کی تمام خواتین وکلاء متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کے آئینی و قانونی حقوق کے حصول کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہیں گی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے عثمان خان کاکڑ کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کاش وہ اس خطے کے آخری شہید ہوتے، مگر ان کے بعد تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے محکوم پشتون قوم کو آپس میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا اور جنوبی پشتونخوا سمیت پورے صوبے میں امن کے قیام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور طبقات کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہونا پڑے گا۔

WhatsApp
Get Alert