حکومت کی 37 روز سے خاموشی اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل؛ عدم تحفظ کے شکار ینگ ڈاکٹرز کا 16 جولائی کو احتجاجی ریلی کا اعلان

کوئٹہ(ڈیلی قدرت) ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی37روز سے مجرمانہ خاموشی برقرار، 16 جولائی کو سول ہسپتال کوئٹہ سے عظیم الشان احتجاجی ریلی کا اعلان کرتے ہیں -بیان میں کہا گیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان گزشتہ 37 دنوں سے انصاف کی فراہمی، سرکاری ہسپتالوں میں مؤثر سیکیورٹی اور محکمہ صحت میں جوابدہی کے مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج ہے اس سلسلے میں صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز سے دستبرداری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 37 روز گزرنے کے باوجود حکومت بلوچستان کی مجرمانہ خاموشی اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل انتہائی قابلِ مذمت ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک سیکریٹری ہیلتھ کے دفاع میں پورے محکمہ صحت کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ہسپتال عدم تحفظ کی علامت بن چکے ہیں، جہاں نہ ڈاکٹرز، نہ نرسز، نہ فارماسسٹس اور نہ ہی پیرامیڈیکس اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح کرتی ہے کہ سیکریٹری ہیلتھ ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال کوئٹہ کی برطرفی، ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام تک ، او پی ڈیز سے دستبرداری اور احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ترجمان نے کہا کہ اسی سلسلے میں مطالبات کے حق میں 16 جولائی 2026 بروز جمعرات صبح 11بجے سول ہسپتال کوئٹہ سے ایک عظیم الشان ریلی نکالی جائے گی۔ ریلی میں بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ڈاکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس احتجاجی مظاہرے اور گرینڈ ریلی میں بھرپور شرکت کریں تاکہ اپنے جائز مطالبات کے حق میں اتحاد اور یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا جا سکے۔
