ایرانی انفراسٹرکچر پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے، ایران کی دھمکی
آبنائے ہرمز ہماری ریڈلائن ہے، ایران کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر امریکہ کو آبنائے ہرمز میں فوجی یا سفارتی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا؛ ترجمان ایرانی افواج کا بیان

تہران(قدرت روزنامہ)ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری اور ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمنیا نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا تو خطے کا پورا نقشہ بدل دیا جائے گا اور جنگ کو ایسے نئے محاذوں تک پھیلا دیا جائے گا جس کا دشمن نے تصور بھی نہ کیا ہوگا۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے اندر کسی بھی قومی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حماقت کی تو جواب میں خطے بھر میں موجود تمام اہم امریکی تنصیبات کو فوراً تباہ کر دیا جائے گا، صرف امریکی ٹھکانے ہی نہیں بلکہ خطے کا وہ تمام انفراسٹرکچر جو دشمن کے کام آ سکتا ہے ایرانی مسلح افواج کے نشانے پر ہوگا اور اسے اس طرح نیست و نابود کیا جائے گا جیسے اس کا کبھی وجود ہی نہیں تھا۔
جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے عالمی توانائی کی سپلائی لائن کے حوالے سے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر امریکہ کو آبنائے ہرمز میں فوجی یا سفارتی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا، آبنائے ہرمز ایران کے لیے ناقابلِ عبور سرخ لکیر کی حیثیت رکھتی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمنیا نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا کہ اگر امریکی جارحیت کا سلسلہ نہ رکا تو جنگ کا دائرہ کار بالکل نئے جغرافیائی خطوں اور محاذوں تک پھیلا دیا جائے گا، ایرانی مسلح افواج کی طاقت اور عسکری صلاحیتوں کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو ابھی تک دنیا کے سامنے ظاہر ہی نہیں کیا گیا، اگر ہمارے ملک کے خلاف کارروائی جاری رہی تو ایران کا جوابی حملہ حالات کے عین مطابق لیکن دشمن کی توقعات اور سوچ سے کہیں بڑھ کر ہوگا جو تصادم کے نئے محاذ کھول دے گا۔
جہاں ایک طرف ایرانی کمانڈرز کی جانب سے خطے کے انفراسٹرکچر کو کچلنے کی دھمکیاں سامنے آئیں، وہیں فوجی ترجمان محمد اکرمنیا نے ہمسایہ ممالک کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی اور واضح کیا کہ ایران کا اپنے پڑوسی ممالک یا خطے کی دیگر اسلامی ریاستوں کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، تہران ہمیشہ سے علاقائی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی پالیسی پر گامزن رہا ہے، ایرانی مسلح افواج کا اولین اور مقدس ترین مشن صرف اپنے ملک کے وقار، بقا اور قومی سلامتی کا تحفظ کرنا ہے اور وہ اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
