حکومت مولانا فضل الرحمان کیخلاف ایف آئی آر کے حق میں نہیں، نہ ہی بات کو طول دینا چاہتے ہیں، رانا ثناء اللہ
ہمیں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تلخی پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم ان کی اس تلخی کی ترشی پر نظرِ ثانی اور تشخیص کی گئی ہے تاکہ ملک اور اداروں کا وقار برقرار رہے؛ وفاقی مشیر کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم کے مشیر اور سینئر ن لیگ رہنما رانا ثناء اللہ نے جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات اور ان کے خلاف متوقع قانونی کارروائی کی افواہوں پر حکومتی مؤقف واضح کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ وفاقی حکومت یا مسلم لیگ ن کسی طور پر بھی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانے یا ایف آئی آر کٹوانے کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتی۔
جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف قانونی کارروائی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہرگز جارحانہ انداز میں نہیں ہیں، مولانا فضل الرحمان کے خلاف ہم نے کوئی ایف آئی آر نہیں کٹوائی، میں ذاتی طور پر اور جہاں تک ہمارے وزیراعظم کی سوچ کا تعلق ہے، ہم بالکل اس حق میں نہیں ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کی جائے، اور نہ ہی ہم اس معاملے کو ضرورت سے زیادہ طول دینے کے حق میں ہیں۔
مسلم لیگ ن کا زیرک اور مدبر سیاسی چہرہ دیکھنا ھو تو رانا ثنااللہ خانُ کو سننا چاھیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا فضل الرحمن خان کی تلخی پر اعتراض نہی تلخی کی ترشی پر نظر ثانی کی تشخیص کی ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاکہ سپاھیوں کا مورال ڈاون نہ ھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بروقت اور درست بات کی ھے رانا ثنا اللہ… pic.twitter.com/5ExVUl0UNH— Aftab khan Niazi (@aftabniazi007) July 20, 2026
حکومتی وزراء اور اپنے جوابی بیانات کی وجہ بتاتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا کے خطاب سے جو سنگین خطرہ پیدا ہوا، اس کا سدِباب کرنا ضروری تھا، ہمارا جو سپاہی سرحدوں پر اور میدانِ جنگ میں دہشت گردوں کے سامنے بندوق لے کر کھڑا ہے، اس کے حوصلے میں کسی قسم کی کمی نہ ائے، ہمارے شہداء کی فیملیز اس طرح کے بیانات سے پریشان نہ ہوں اور انہیں صدمہ نہ پہنچے، اس حساس عنصر کا دفاع کرنے کے لیے وزراء کی طرف سے بیانات، میری گفتگو اور دیگر رہنماؤں کی بات چیت انتہائی ضروری تھی تاکہ افواج اور سکیورٹی اہلکاروں کا مورال گرنے نہ پائے۔
رانا ثناء اللہ نے جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ کے مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تلخی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم ان کی اس تلخی کی ترشی پر نظرِ ثانی اور تشخیص کی گئی ہے تاکہ ملک اور اداروں کا وقار برقرار رہے۔
