ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو مارے گئے
پولیس ٹیم ملزمان کی نشاندہی پر ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارنے پہنچی تھی

کراچی(قدرت روزنامہ)کراچی کے علاقے گلشنِ معمار عمر بروہی گوٹھ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی کارروائی کے دوران پہلے سے گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی فرار ساتھیوں کی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے، اس مقابلے کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے بتایا کہ پولیس ٹیم گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر ان کے دیگر فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے عمر بروہی گوٹھ گلشنِ معمار میں چھاپہ مارنے پہنچی تھی، چھاپے کے دوران وہاں موجود روپوش ملزمان نے ایس آئی یو پولیس کی ٹیم پر اچانک اندھا دھند فائرنگ کردی۔
بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کی زد میں آ کر ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا، جبکہ پولیس کے ساتھ موجود تینوں گرفتار ڈاکو یعنی سریش، رام چند اور انیل بھی اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گئے، فائرنگ کرنے والے دیگر ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ زخمی ہونے والے تینوں گرفتار ڈاکوؤں نے ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران راستے میں ہی دم توڑ دیا۔
یاد رہے کہ ہلاک ہونے والے یہ تینوں ڈاکو ڈاکٹر آکاش کے قتل کے کیس میں ملوث تھے، 13 جولائی کو ان ڈاکوؤں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کلفٹن میں بینک کے باہر سے نکلنے والے ڈاکٹر آکاش کو لوٹنے کی کوشش کی تھی، ملزمان ڈاکٹر آکاش سے 25 لاکھ روپے کی رقم لوٹنے کے بعد فائرنگ کرکے انہیں موقع پر ہی قتل کر کے فرار ہو گئے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ ہلاک ہونے والے ان تینوں ملزمان کو ساؤتھ زون پولیس اور ایس آئی یو پولیس نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، اس گروہ کے مزید 3 ساتھی، جن میں 1 خاتون بھی شامل ہے، ابھی تک پولیس کو مطلوب اور فرار ہیں، ایس آئی یو پولیس اور مقامی فورسز مقابلے کی جگہ سے فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں چھاپے مار رہی ہیں۔
